حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 220 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 220

* رشاہ صاحب باب ہفتم۔پاؤ تو فوراً بیعت میں آ جاؤ اور گستاخی اور عجب و تکبر سے اس کا مقابلہ نہ کرو ورنہ مولوی محمد حسین کی طرح یا دوسرے منکروں کی طرح سخت ذلیل ہو گے۔اب بڑی چیز ہے ہمیشہ مؤدب و با ادب رہو کسی بزرگ کی بے ادبی سے سخت رسوائی ہوتی ہے جیسا کہ مولوی صاحب نے مثنوی میں فرمایا ہے۔بے ادب خود را نه تنها داشت بد بل الاتش خود را بنده اتفاق رو میده ** مکرر پھر یادداشت کے لئے بار بار کہتا ہوں کہ قرضوں سے بچو۔قرضوں سے انسان رسوا اور سخت ذلیل ہو جاتا ہے۔میں نے اس کا تجربہ کیا ہے کہ قرض کا اصل سبب یہی ہے کہ جب آمدنی سے خرچ بڑھ جائے اور اپنی حیثیت اور وسعت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو قرض کے جہنم میں انسان داخل ہو جاتا ہے۔اپنی آمدنی سے ہمیشہ کچھ بچاتے رہوتا کہ تمہاری یتیم اولا د اور پس ماندگان کیلئے تمہاری اچانک و بے وقت موت میں ان کے لئے کچھ ذخیرہ اس قدر باقی رہے کہ وہ اپنے حصولِ معاش تک گزارہ کر سکیں۔یہ مال جمع کرنا اس غرض سے معیوب نہیں ہے اور بخل میں داخل نہیں کہ اولاد کیلئے ذخیرہ رکھا جائے۔بلکہ یہ عمل صالح ہے جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام کے مرمت دیوار میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ــــــــانَ أَبُـــــوهُــــــــــــا صَالِحًا۔(سورۃ کہف:۸۳) ان قیموں کے باپ کو جس نے اپنی اولاد کے لئے ذخیرہ چھوڑا صالح کہا گیا ہے۔سو اگر تم یہ مال بعد ادائے زکوۃ، صدقہ و خیرات اور چندہ اشاعت و ( دعوۃ الی اللہ دین حق ) ، باقی ماندہ کو جمع کرو اور اس غرض سے جمع کرو کہ میرے بعد میری یتیم اولا د اور بیوہ در بدر ذلیل اور گدا گروں کی طرح مانگتی نہ پھرے تو یہ جمع کردہ مال اعمال صالحہ میں داخل ہوگا۔وَلَا تَجْعَلُ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ (سورہ بنی اسرائیل :۳۰) کے ارشاد باری تعالیٰ کو مد نظر رکھتے رہو۔جھوٹ، حسد، کینه، بخل، غیبت، عجب، ریا کاری اور تکبر وغیرہ اوصاف رذیلہ سے بچتے رہو۔خصوصاً تفرقہ و عناد، شقاق با ہمی کو سم قاتل سمجھو۔اگر ایسا نہ کرو گے تو والدین کی * معاند احمدیت مولوی محمد حسین بٹالوی مراد ہیں۔مرتب بے ادب کی برائی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ ساری دنیا میں آگ لگا دیتا ہے۔** ۲۲۲