حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 193
رشاہ صاحب باب ہفتم۔شدہ کی اپنے مال اور جان اور ہمت اور کوشش سے دستگیری کرو۔جب تک اس کو ان مصائب سے رہائی نہ ہو، لگا تار سعی جمیل و کوشش بلیغ میں لگے رہو۔کیونکہ وہ تمہارا باز و اور اعضائے بدن کی طرح ہے۔جب اپنے کسی اعضاء میں تکلیف ہو تو سارا بدن بیکا ر ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خَلَقَكُمْ مِنْ نفسٍ وَاحِدَةٍ (سورۃ النساء:۲)۔اور حضرت سعدی علیہ الرحمۃ اس کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں۔* بنی آدم اعضائے یک دیگر اند که در آفرینش زیک جوہر اند چو عضوے بدرد آورد روزگار دیگر عضو با نماند قرار پس تم اس نکتہ کو خوب یا درکھو۔اور اسپر کار بندر ہو۔يَا بَنِی! شرک سے ہمیشہ بچتے رہو۔شرک بُری چیز ہے۔شرک یہی نہیں کہ کسی بت کے آگے سجدہ کرنا بلکہ اپنے نفس کی خواہشات غیر مشروعہ اور اسباب پر اور مخلوق پر بلکہ اپنے نفس اور اولاد کی امداد پر، اپنے علم اور اپنی شجاعت اور عبادات اور زہد و ریاضت وکشف و کرامات پر بھروسہ رکھنا۔یہ سب شرک خفی اور بت اندرونی ہیں۔ان پر بھروسہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے بُت کے آگے سجدہ کرنا۔حضرت خاقانی علیہ الرحمہ کا یہ نکتہ کیا ہی پیارا معلوم ہوتا ہے جو ان کو ۳۰ سال کی سخت ریاضت شاقہ کے بعد حاصل ہوا۔وہ فرماتے ہیں۔پس از سی سال این نکته محقق شد بخاقانی که یکدم با خُدا مردن به از تختِ سلیمان * * حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی ارشاد ہے۔پس مجھ کو تو قریب سال کی عمر میں یہ تجربہ ہوا ہے کہ اولاد پر اور اسباب پر اور مخلوق پر، بلکہ اپنے نفر * بنی آدم ایک دوسرے کے اعضاء ہیں کیونکہ پیدائش اور تخلیق کے وقت ایک ہی جو ہر سے پیدا کئے گئے تھے۔اگر کوئی عضو کسی درد میں مبتلا ہو جائے تو دوسرا عضو قرار نہیں پکڑتا ، بے چین ہو جاتا ہے۔** خاقانی پت میں سال کی مسلسل تحقیق کے بعد یہ نکتہ متفق ہوا ہے کہ باخدا انسان بن جانا تخت سلیمانی مل جانے سے بہتر ہے۔(مرتب) ۱۹۵