حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 192
مارشاہ صاحب باب ہفتم۔۔رحمی کے جرم میں سخت ماخوذ ہو گے اور دین اور دنیا میں خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ کے مصداق بنو گے۔اللہ تعالیٰ تم کو ان سب بلاؤں سے محفوظ رکھے۔آمین يا بني ! تم آپس میں سارا خاندان اس محبت اور انس اور ہمدردی سے اور اتفاق کلی سے اپنی زندگی بسر کرو کہ تم لنفس واحِدَةٍ کی طرح ہو جاؤ اور دیکھنے والے تمہارے اس حُسنِ سلوک و اتفاق اور ہمدردی کو دیکھ کر رشک کریں اور اس مثال اتفاق میں تم سب کیلئے اُسوہ حسنہ ہو جاؤ۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کبھی کبھی مجھے کو فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے اپنی اولاد کی خوب تربیت اور پرورش کی ہے۔جس سے ہم کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔پس تم ایسا نہ کرنا کہ اس مرحوم کی حسن ظنی کو اپنے عملی تفرقات سے ثابت کر دکھاؤ۔بلکہ آخر دم تک اتفاق اور محبت اور باہمی ہمدردی کا تم سب کیلئے نمونہ اعلیٰ اور اسوہ حسنہ بنے رہو۔اسی پر تم سب کی موت ہو۔اگر ایسا کرو گے تو انشاء اللہ تعالیٰ حسنات دنیا اور آخرت کے تم وارث ہو جاؤ گے۔اور رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (سورۃ البقرہ:۲۰۲) کے پورے پورے مصداق بنو گے۔آمین ثم آمین يابني ! تم اپنے سے بڑے بھائی کا ادب اور لحاظ خصوصاً سب سے بڑے بھائی کا ادب اور تعظیم اپنے والدین کی طرح کرو۔اور اس کی اطاعت سچے دل سے کرو اور پورے پورے فرمانبردار رہو۔اور بڑے بھائیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے سے چھوٹے بھائی کو اپنے بچوں اور اولاد کی طرح سمجھیں۔اور وہی سلوک اُن سے کرو جیسا کہ تم اپنی اولاد سے کرتے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو کبھی بھی تم میں تفرقہ نہ ہوگا۔اور اسی میں تمہاری فلاح دارین ہے۔اگر کسی بھائی میں کمزوری یا نقص دیکھو تو اس کی اصلاح کی کوشش ایسی حکمت عملی اور حسن تدبیر اور ہمدری سے کرو کہ اس کو ناگوار نہ ہو۔اور اس کی دل شکنی نہ ہو۔اور اس کوشش میں لگے رہو۔جب تک کہ اس کی اصلاح نہ ہو جائے اور وہ اُس کمزوری و نقص سے بالکل مُبر ا ہو جائے۔اپنے غریب اور مفلس بھائی اور عیال دار اور مریض یا کسی مصیبت میں مبتلا ۱۹۴