حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 145 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 145

ارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر کے پاک کلام قرآن کریم سے بے انتہاء محبت تھی۔سوائے اس کے کہ بیمار ہوں روزانہ صبح نماز سے فراغت حاصل کر کے قرآن کریم پڑھتی تھیں۔اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہتی تھیں۔جب میں پڑھتا تھا تو ساتھ ساتھ میری غلطیاں درست کرتی جاتی تھیں اور مجھے نماز پڑھانے کا ایسا شوق تھا کہ بچپن سے ہی کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ کر مجھے نماز کے لئے ( بیت) میں بھیج دیا کرتی تھیں اور اگر میں کبھی کچھ کوتاہی کرتا۔تو بڑے افسوس اور حیرت سے کہتیں کہ طاری تم میرے ایک ہی بیٹے ہو۔میں نے خدا سے تمہارے پیدا رنے سے پہلے بھی یہی دعا کی تھی کہ اے میرے رب مجھے ایسا لڑکا دے جو نیک ہو۔اور میری خواہش ہے کہ تم نیک بنو۔اور قرآن شریف حفظ کرو۔اب تم نمازوں میں تو نہ کوتاہی کرو۔مگر جب میں نماز پڑھ لیتا تو میں دیکھتا کہ امی کا چہرہ وفور مسرت سے تمتما اُٹھتا۔اور مجھے بھی تسکین ہوتی پھر مجھے اکثر کہتیں۔طاری قرآن کریم کی بہت عزت کیا کرو۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ سنا تیں کہ اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بچوں پر بہت ہی مہربان تھے اور کبھی بچوں کو نہ مارتے تھے مگر ایک دفعہ کسی بچے نے قرآن کریم کی بے ادبی کی۔تو حضرت صاحب نے اسے غصہ میں آکر تھپڑ لگایا۔غرض امی کے دل میں خدا کے کلام کی بہت عزت تھی۔اور خدا اور اس کے کلام سے بہت عزت کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمت پر تو بہت ہی بھروسہ تھا اور ساتھ ہی تقویٰ بھی انتہائی درجہ تک پہنچا ہوا تھا۔ایک دفعہ ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ کہ کون بخشا جائے گا اور کون نہیں۔امی نے سنا اور ہمیں ایک واقعہ سنایا۔اور کہا کہ اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔واقعہ یہ تھا کہ ایک دفعہ دو آدمی جنگل میں رہتے تھے۔ایک بہت ہی نیک تھا۔اور ایک شرابی کبابی تھا۔ایک دفعہ نیک آدمی نے شرابی سے کہا۔کہ تمہیں روزانہ نصیحت کرتا ہوں کہ شراب پینا اور گناہ کرنا چھوڑ دو۔مگر تم باز نہیں آتے۔آج میں نے تم پر حجت پوری کر دی۔اب تم بالکل نہ بخشے جاؤ گے۔اس آدمی نے جواب دیا۔مجھے اور میرے خدا کو رہنے دو تم کوئی بخشوانے کے ٹھیکیدار نہیں ہو۔خدا مہربان ہے۔میں اس کی رحمت کی امید کرتا ہوں۔اور خدا کو اس کی یہ بات پسند آ گئی اور اس نے بظاہر نیک شخص کو غصے سے ڈانٹا۔اور فرمایا جاؤ اور اپنی نیکیوں سمیت جہنم میں چلے جاؤ اور دوسرے آدمی کو رحم فرما کر جنت میں جگہ دے دی۔۱۴۷