حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 144 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 144

باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر ارشاہ صاحب طرف اسے خدا کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہو جو گویا انسانی زندگی کا مقصد ہے وہاں دوسری طرف اس کی مرحومہ امی کی روح بھی جنت میں دنیا کی طرف سے ٹھنڈی اور راحت بخش ہوائیں پاتی رہے۔اور اللہ تعالیٰ اس کی تینوں بہنوں کا بھی حافظ و ناصر ہو۔آمین یا ارحم الراحمین۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب فرماتے ہیں:۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى ال ابرهيم وبارک وسلم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ O مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ 0 إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ أمِينَ (سورة فاتحه ) موت اور پھر ایک ایسی ماں کی موت جو بہترین ماں ہونے کے علاوہ ایک سچی مسلمان۔خدا اور رسول کی عاشق صادق اور امام وقت کے ادنی اشاروں پر لبیک کہنے والی اور اس کی خاطر جان تک قربان کرنے سے دریغ نہ کرنے والی پھر ایک ایسے وسیع اخلاق کی مالک ماں کہ اپنوں بیگانوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ہاں ایسی ماں کی موت ایک ایسی موت ہے کہ زندگیوں کو ہلا کر رکھ دے۔دلوں کو پگھلا دے۔اور دماغ کوشل کر دے اور پھر رے لئے تو میری امی کی وفات کا صدمہ ایک ایسا دھکا تھا کہ اگر خدائے رحیم وکریم کا فضل نہ ہوتا تو وہ میری زندگی کی تختی کوالٹ کے رکھ دیتا۔کیونکہ اب بھی جب کہ میں اپنی امی کو اس محبت کا جو انہیں مجھ سے تھی خیال کرتا ہوں تو درد سے کانپ اٹھتا ہوں۔اور محبت کی یاد میرے دل کو تڑپا دیتی ہے۔اور پھر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اسی طرح میری امی کو امام وقت، رسول خدا اور خدا تعالیٰ سے کتنی محبت ہوگی کہ اندازہ سے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جب کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا یا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کوئی واقعہ سامنے آتا تو امی کہ اُٹھتیں دیکھو طاری! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتا ہے اور اس کی مثال میں مجھے بعض دفعہ حضرت موسیٰ اور گڈریے کا قصہ سنا تیں۔اور کچھ اس انداز سے اور پیار بھرے لہجہ سے خدا کا ذکر کرتیں کہ ہر ہر لفظ گو یا محبت کی کہانی ہوتا۔اور پھر اسی طرح خدا