حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 139 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 139

مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر لمبی بیماریوں میں چونکہ بیمار کے رشتہ دار بھی کثرت سے دعائیں کرتے ہیں۔اس لئے خدا کے حضور جب وہ دعائیں ظاہری صورت میں قبول ہونے والی نہیں ہوتیں تو وہ ان دعاؤں کے بدلہ میں مرنے والے کی عاقبت کو درست کر دیتا ہے۔اور فرماتا ہے ہم نے اسے دنیا میں تو صحت نہیں دی مگر آخرت میں اس کی روح کو صحت دے دی ہے۔پھر ہمارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ ہے اور درحقیقت تمام کامل اور سچے مومنوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ قبل از وقت ایسی خبریں دے دیتا ہے جن کے پورے ہونے پر ریج میں بھی خوشی کا سامان پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بہت محبت تھی۔جب وہ بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اتنی محنت اور اتنی توجہ سے اس کا علاج کیا کہ بعض لوگ سمجھتے تھے اگر مبارک احمد فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ پہنچے گا۔حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) بڑے حوصلہ والے اور بہادر انسان تھے۔جس روز مبارک احمد مرحوم فوت ہوا۔اس روز صبح کی نماز پڑھ کر آپ مبارک احمد کو دیکھنے کے لئے تشریف لائے میرے سپر داس وقت مبارک احمد کو دوائیاں دینے اور اس کی نگہداشت وغیرہ کا کام تھا۔میں ہی نماز کے بعد حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔میں تھا حضرت خلیفہ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) تھے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔اور شائد ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔جب حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) مبارک احمد کو دیکھنے کے لئے پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا حالت اچھی معلوم ہوتی ہے بچہ سو گیا ہے مگر در حقیقت وہ آخری وقت تھا۔جب میں حضرت خلیفہ اول کو لے کر آیا اس وقت مبارک احمد کا شمال کی طرف سر اور جنوب کی طرف پاؤں تھے۔حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) بائیں طرف کھڑے ہوئے انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا مگر نبض آپ کو محسوس نہ ہوئی اس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور مشک لائیں اور خود بغل کے قریب اپنا ہاتھ لے گئے۔اور نبض محسوس کرنی ۱۴۱