حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 140 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 140

رشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر شروع کی اور جب وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو گھبرا کر کہا حضور جلد مشک لا ئیں اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چابیوں کے چھے سے کنجی تلاش کر کے ٹرنک کا تالا کھول رہے تھے۔جب آخری دفعہ حضرت مولوی صاحب نے گھبراہٹ سے کہا کہ حضور مشک جلدی لائیں۔اور اس خیال سے کہ مبارک احمد کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ ہوگا با وجود بہت دلیر ہونے کہ آپ کے پاؤں کانپ گئے۔اور آپ کھڑے نہ رہ سکے اور زمین پر بیٹھ گئے ان کا خیال تھا کہ شائد نبض دل کے قریب چل رہی ہو۔اور مشک سے قوت کو بحال کیا جاسکتا ہے۔مگر ان کی آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ امید موہوم تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی آواز کے تربخش کو محسوس کیا۔تو آپ سمجھ گئے۔کہ مبارک احمد کا آخری وقت ہے اور آپ نے ٹرنک کھولنا بند کر دیا اور فرمایا مولوی صاحب شائد لڑ کا فوت ہو گیا ہے۔آپ اتنے گھبرا کیوں گئے ہیں۔یہ اللہ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہمیں دی تھی۔اب وہ اپنی امانت لے گیا ہے۔تو ہمیں اس پر کیا شکوہ ہو سکتا ہے۔پھر فرمایا آپ کو شاید یہ خیال ہو کہ میں نے چونکہ اس کی بہت خدمت کی ہے اس لئے مجھے زیادہ صدمہ ہوگا۔خدمت کرنا تو میرا فرض تھا۔جو میں نے ادا کر دیا اور اب جبکہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر پوری طرح راضی ہیں۔چنانچہ اسی وقت آپ نے بیٹھ کر دوستوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے۔کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی۔جو اس نے ہم سے لے ل۔ہمارے رنج اس کی خوشی پر قربان۔ہم اس کی خوشی کے دن منحوس باتیں کرنے والے کون ہیں۔جتنے احسانات اللہ تعالیٰ نے ہم پر کئے ہیں واقعہ یہ ہے کہ اگر ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اور اگر ہماری بیویوں اور ہمارے بچوں کا ذرہ ذرہ آروں سے چیر دیا جائے تب بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اس کے احسانوں کا کوئی بھی شکریہ ادا کیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں یا تم میں سے سیارے اس مقام پر ہیں مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور تم میں بھی لیکن سچی بات یہی ہے اور جتنی بات اس کے خلاف ہے وہ یقیناً ہمارے نفس کا دھوکا ہے آج آسمان پر خدا کی فوجوں کی فتح کے نقارے بج رہے ہیں۔آج دنیا کوخدا کی طرف لانے کے سامان کئے جارہے ہیں۔آج خدا کے فرشتے اس کی حمد کے گیت گا رہے ہیں۔اور ہم بھی اس گیت میں ان فرشتوں کے ہمنوا اور شریک ہیں۔اگر ہم جسمانی طور پر غمزدہ ۱۴۲