حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 138
مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر راجِعُون یہ کیسی لطیف تعزیت ہے۔اس مومن کی اصل تعزیت إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ پس رَاجِعُون ہی ہے۔باقی جہاں تک جسم کا تعلق ہے۔جسم جب کہتا ہے تو ضرور دکھ پاتا ہے۔جنگوں میں شہید ہوئے اور اپنی خوشی سے شہید ہوئے۔آخر بدر یا احد یا احزاب کے موقع پر کون ان کو پکڑ کر لے گیا تھا۔وہ اپنی خوشی سے گئے اور اپنی خوشی سے شہید ہوئے لیکن جہاں تک جسم کے کٹنے کا سوال ہے ان کو ضرور تکلیف ہوئی۔پس جسم بیشک دیکھ پاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہوتا ہے اس بندے پر جس کی روح خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکی رہے اور اس سے کہے کہ اے میرے رب مجھے کوئی شکوہ نہیں۔تو نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا۔یہی عین مصلحت تھی اور یہی چیز میرے لئے بہتر تھی۔تیرا فعل بالکل درست ہے۔اور گو مجھے سمجھ میں نہ آئے۔مگر میں یہی کہتا ہوں کہ تیرا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں۔میں نے جہاں تک ہوس کا مرحومہ کے علاج کے لئے کوشش کی۔لمبی بیماری تھی۔لیکن اس بیماری میں خدا تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا فرمائی۔کہ میں نے ان کی ہر طرح خدمت کی اور ان کے علاج کے لئے کوشش کی اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ثواب کا ایک موقع بہم پہنچا دیا۔اور اس بات کا بھی کہ میاں بیوی میں بعض دفعہ رنجشیں ہو جاتی ہیں۔خصوصاً جس کی گئی بیویاں ہوں ان میں سے بعض کہہ دیا کرتی ہیں کہ ہم سے محبت نہیں فلاں سے ہے۔چاہے اس سے زیادہ محبت ہو۔مگر اس قسم کے شکوے بعض دفعہ پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔مجھے ان کی لمبی بیماری کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔مگر میں سمجھتا تھا اس کے کئی فوائد بھی ہیں ایک تو یہ کہ میں سمجھتا تھا کہ کم سے کم میری خدمت کی وجہ سے اگر ان کے دل میں اس قسم کا کوئی خیال ہو گا بھی کہ میرا خاوند مجھ سے محبت نہیں کرتا ، تو یہ خیال ان کے دل سے جاتا رہے گا اور ان کی وفات اطمینان کی وفات ہوگی اور یہ سمجھتے ہوئے ہوگی کہ میرا خاوند مجھ سے محبت کرتا ہے۔دوسری حکمت اس میں یہ تھی کہ ہر انسان سے اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ غلطیاں اور کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔لمبی بیماریاں بیشک انسان کے لئے بڑے دکھ کا موجب ہوتی ہیں مگر لمبی بیماریوں سے مرنے والا بشرطیکہ وہ مومن ہو۔خدا تعالیٰ کی مغفرت کا مستحق ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی بیماری کے ایام میں تو بہ کی توفیق دے دیتا ہے۔استغفار کی توفیق دے دیتا ہے۔دعا کی توفیق دے دیتا ہے اور یہ سب چیزیں مل کر اس کی مغفرت اور ترقی درجات کا باعث بن جاتی ہے۔تیسری حکمت یہ ہے کہ ایسی ۱۴۰