حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 137 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 137

ناہ صاحب جھوٹا ہے اور میر اخدا سچا ہے والحمد للہ علی کل حال“۔باب چہارم حضرت ام طاہر خدا تعالیٰ کے فضل کا طالب۔مرزا محمود احمد روزنامه الفضل قادیان ۱۲ جولائی ۱۹۴۴ صفحه ۱ - ۸) حضرت سیدہ ام طاہر اور حضرت مرزا مبارک احمد صاحب کا ذکر خیر ۱۰ مارچ ۱۹۴۴ء کو خطبہ جمعہ میں سید نا حضرت مصلح موعود نے فرمایا :- اس ہفتے میرے گھر میں ایک واقعہ ہوا ہے یعنی میری بیوی ام طاہر فوت ہوئی ہیں۔اس کے متعلق میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں بڑا درد پایا جاتا ہے۔خصوصاً عورتیں اور غریب عورتیں بہت زیادہ اس درد کو محسوس کرتی ہیں۔کیونکہ میری یہ بیوی جو فوت ہوئی ہیں۔ان کے دل میں غرباء کا خیال رکھنے کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا۔ان کی بیماری کے لمبے عرصہ میں جماعت نے جس قسم کی محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔وہ ایک ایسی ایمان بڑھانے والی بات ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ مومن واقعہ میں ایک ہی جسم کے ٹکڑے ہوتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ جماعت کی ہمدردی گو دعاؤں کی شکل میں ہی ہوتی تھی لیکن قادیان کے لوگوں کے متعلق جب مجھے معلوم ہوتا کہ وہ بار بار مسجد میں جمع ہو کر ان کی صحت کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو کئی دفعہ مجھے شک گزرتا کہ ایسا نہ ہو کہ ہمارا یہ گند اضطرار خدا کو نا پسند ہو۔جہاں تک میاں بیوی کا تعلق ہوتا ہے۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے گھر میں آنے کے لئے چنا اور ان کی پہلی شادی ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے ہوئی تھی۔اس سے لئے ان کا انتخاب گویا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی کیا ہوا تھا۔۱۹۲۱ء کے شروع میں وہ مجھ سے بیاہی کہیں۔اور اب ۱۹۴۴ء میں وہ فوت ہوئی ہیں۔اس طرح ۲۳ سال کا لمبا عرصہ انہوں نے میرے ساتھ گزارا جولوگ ہمارے گھر کے حالات جانتے ہیں۔ان کو معلوم ہے کہ مجھے ان سے شدید محبت تھی لیکن با وجود اس کے جو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اس پر کسی قسم کا شکوہ کا ہمارے دل میں پیدا ہونا ایمان کے بالکل منافی ہوگا۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔ہمیں رسول کریم ﷺ نے یہی تعلیم دی ہے جب کوئی شخص وفات پا جائے ہمارا اصل کام یہی ہوتا ہے۔کہ ہم کہدیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ ۱۳۹