حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 136
ناه صاح باب چہارم حضرت ام طاہر مرحومہ کو لے کر ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پہنچے تو چھوٹی لڑکی امتہ الجمیل جو ان کی اور میری بہت لاڈلی تھیں اور کل سات برس کی عمر کی ہے۔اسے میں نے دیکھا کہ ہائے امی ہائے امی کہہ کر چیخیں مار کر رو رہی ہے۔میں اس بچی کے پاس گیا اور اسے کہا۔جمی جمی ( ہم اسے جمی کہتے ہیں ) امی اللہ میاں کے گھر گئی ہیں۔وہاں ان کو زیادہ آرام ملے گا۔اور اللہ میاں کی یہی مرضی تھی کہ اب وہ وہاں چلی جائیں۔دیکھو رسول اللہ علیہ فوت ہو گئے تمہارے دادا جان فوت ہوگئے کیا تمہاری امی ان سے بڑھ کر تھی۔میرے خدا کا سایہ اس بچی سے ایک منٹ کے لئے بھی جدا نہ ہو۔میرے اس فقرہ کے بعد اس نے ماں کے لئے آج تک کوئی چیخ نہیں ماری۔اور یہ فقرہ سنتے ہی بالکل خاموش ہوگئی۔بلکہ دوسرے دن جنازے کے وقت جب اس کی بڑی بہن جو کچھ بیمار ہے صدمہ سے چیخ مار کر بیہوش ہوگئی تو میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ کے پاس جا کر میری جمی ان سے کہنے لگی۔چھوٹی آپا (انہیں بچے چھوٹی آپا کہتے ہیں) باجی کتنی پاگل ہے۔ابا جان کہتے ہیں۔امی کے مرنے میں اللہ کی مرضی تھی۔پھر بھی روتی ہے۔اے میرے رب! اے میرے رب! چھوٹی بچی نے تیری رضا کے لئے اپنی ماں کی موت میں غم نہ کیا۔کیا تو اسے اگلے جہان میں غم سے محفوظ نہ رکھے گا۔اے میرے رحیم خدا ! تجھ سے ایسی امید رکھنا تیرے بندوں کا حق ہے۔اور اس امید کو پورا کرنا تیرے شایان شان ہے۔آخری درد بھرا پیغام اے مریم کی روح! اگر خدا تعالیٰ تم تک میری آواز پہنچا دے تو لو یہ میرا آخری دردبھرا پیغام سن اور جاؤ خدا تعالیٰ کی رحمتوں میں جہاں غم کا نام کوئی نہیں جانتا، جہاں درد کا لفظ کسی کی زبان پر نہیں آتا۔جہاں ہم ساکنین الارض کی یاد کسی کو نہیں ستاتی۔والسلام واخر دعوانا الحمدلله رب العالمين۔اس دنیا کی سب محبتیں عارضی ہیں اور صدمے بھی۔اصل محبت اللہ تعالیٰ کی ہے۔اس میں ہو کر ہم اپنے مادی عزیزوں سے مل سکتے ہیں اور اس سے جدا ہو کر ہم سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔ہماری ناقص عقلیں جن امور کو اپنے لئے تکلیف کا موجب سمجھتی ہیں بسا اوقات ان میں اللہ تعالیٰ کا کوئی احسان پوشیدہ ہوتا ہے پس میں تو یہی کہتا ہوں کہ میرا دل ۱۳۸