حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 64 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 64

رشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق دکھائے بغیر نہیں دیکھتے اور اس کے سنائے بغیر نہیں سنتے اور اس کے سمجھائے بغیر نہیں سمجھتے۔اس اعتراف میں ہمارا فخر ہے ہم نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم عالم الغیب ہیں ہم نے انہیں خیالات کے مسلمانوں میں نشو نما پایا تھا ایسا ہی مہدی ومسیح کے متعلق ہمارا علم تھا مگر جب خدا تعالیٰ نے اصل راز ہم پر کھولا اور حقیقت بتا دی تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور نہ خود چھوڑا بلکہ دوسروں کو بھی اس کی طرف اسی کے حکم سے دعوت دی اور اس کو چھڑایا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس امر کو نادان اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے اسی میں ہمارا فائدہ اور ہماری تائید ہوتی ہے دیکھو براہین ( احمد یہ ) میں ایک طرف مجھے مسیح موعود ٹھہرایا ہے اور وہ تمام وعدے جو آنے والے مسیح کے حق میں ہیں میرے ساتھ کئے اور دوسری طرف ہم اپنے اسی قلم سے مسیح کے دوبارہ آنے کا اقرار کرتے ہیں اب ایک دانشمند اور خدا ترس مسلمان اس معاملہ میں غور کرے اور دیکھے کہ اگر یہ دعوی ہمارا افتراء ہوتا اور ہم نے از خود بنایا ہوتا یا منصوبہ بازی ہوتی تو اس قسم کا اقرار ہم اس میں کیوں کرتے یہ سادگی صاف بتاتی ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو علم دیا اسے ہم نے ظاہر کیا بظاہر یہ کاروائی متناقض ہے مگر ایک سعید فطرت انسان کے لئے ایک روشن تر دلیل ہے کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ نے ہم پر نہیں کھولا باوجود یکہ ہمارے ساتھ وہی وعدے جو مسیح موعود کے ساتھ کئے جاتے اور اسی براہین احمدیہ ) میں میرا نام مسیح رکھا جاتا اور هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ ( سورۃ صف : ۱۰ ) الہام ہوتا ہے اگر اسی قلم سے میں لکھتا ہوں کہ مسیح موعود دوبارہ آئے گا ہم نے قیام فی ما اقام اللہ کو نہیں چھوڑ ا جب تک کہ آفتاب کی طرح کھل نہیں گیا یہی اعتراض ہماری سچائی کا گواہ ہے۔نبی کریم ﷺ پر جب پہلے پہل وحی آئی تو آپ نے یہی فرمایا خَشِيتُ عَلى نَفْسِی (بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبر ۳) بیوی کہتی ہے كَلَّا لَا وَاللَّهِ اور پھر بیوی نے کہا کہ آپ ضعفاء کے مددگار ہیں آپ کو خدا ضائع نہیں کرے گا پھر خدا تعالیٰ نے جب آپ پر امر نبوت کو واضح طور پر کھول دیا تو ۶۶