حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 24
مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔ابتدائی حالات مستورات اس فیض سے محروم ہیں۔ہم پر کچھ رحمت ہونی چاہیے کیونکہ ہم اس غرض سے آئے ہیں کہ کچھ فیض حاصل کریں۔حضور (علیہ السلام) بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ جو بچے طلب گار ہیں ان کی خدمت کے لئے ہم ہمیشہ ہی تیار ہیں۔ہمارا یہی کام ہے کہ ہم ان کی خدمت کریں۔اس سے پہلے حضور (علیہ السلام) نے بھی عورتوں میں تقریر یا درس نہیں دیا تھا۔مگر ان کی التجا اور شوق کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کو جمع کر کے روزانہ تقریر شروع فرما دی۔جو بطور درس تھی۔پھر چند روز بعد حضور ( علیہ السلام ) نے حکم فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی نورالدین صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) اور دیگر بزرگ بھی عورتوں میں درس دیا کریں۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب درس کے لئے بیٹھے اور سب عورتیں جمع ہوئیں۔اور چونکہ مولوی صاحب کی طبیعت بڑی آزاد اور بے دھڑک تھی، تقریر کے شروع میں فرمانے لگے کہ اے مستورات! افسوس ہے کہ تم میں سے کوئی ایسی سعید روح والی عورت نہ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تقریر یا درس کے لئے توجہ دلاتی اور تحریک کرتی تمہیں شرم کرنی چاہیے۔اب شاہ صاحب کی صالحہ بیوی ایسی آئی ہیں جس نے اس کارِ خیر کے لئے حضور کو توجہ دلائی۔اور تقریر کرنے پر آمادہ کیا۔تمہیں ان کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے۔نیز حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی اپنی باری سے تقریر اور درس فرمانے لگے۔اس وقت سے مستورات میں مستقل طور پر تقریر اور درس کا سلسلہ جاری ہو گیا۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۸۸۲) یہ گھر آپ کا ہے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ اپنی والدہ ماجدہ کی روایت بیان فرماتے ہیں ۲۴