حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 23
مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔ابتدائی حالات میرے پوچھنے پر انہوں نے یہ خواب سنایا اور کہا کہ یہ سب اس پانی کی برکت ہے۔جو حضرت صاحب نے دم کر کے دیا تھا اور دعا کی تھی اور صبح کو خود بخود بیٹھ بھی گئیں اور کہا کہ مجھے فوراً حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا دو۔کیونکہ میں عہد کر چکی ہوں کہ میں آپ کی بیعت کے لئے حاضر ہوں گی۔میں نے کہا کہ ابھی آپ کی طبیعت کمزور ہے اور آپ سفر کے قابل نہیں۔حالت اچھی ہونے پر آپ کو پہنچا دیا جائے گا۔لیکن وہ برابر اصرار کرتی رہیں کہ مجھ کو بے قراری ہے۔جب تک بیعت نہ کر لوں مجھے تسلی نہ ہوگی۔اور شیر شاہ بھی اسی روز قادیان سے دوائی لے کر آ گیا اور اس نے سارا ماجرا بیان کیا کہ حضرت صاحب نے بڑی توجہ اور درد دل سے دعا کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اچھی ہو جائیں گی۔جب میں نے تاریخ کا مقابلہ کیا تو جس روز حضرت صاحب نے قادیان میں دعا کی تھی اسی روز خواب میں ان کی زیارت ہوئی تھی اور یہ واقعہ پیش آیا تھا۔اس پر ان کا اعتقاد کامل ہو گیا اور جانے کے لئے اصرار کرنے لگیں۔سو وہ صحت یاب ہوئیں تو ان کے بھائی سید حسین شاہ صاحب اور بھتیجے شیر شاہ کے ساتھ انہیں قادیان روانہ کر دیا گیا۔حضرت صاحب نے بڑی شفقت اور مہربانی سے ان کی بیعت لی اور وہ چار روز تک قادیان میں ٹھہریں۔حضور علیہ السلام نے ان کی بڑی خاطر تواضع کی اور فرمایا کہ کچھ دن اور ٹھہر ہیں۔وہ چاہتی تھیں کہ کچھ دن ٹھہریں۔مگر ان کا بھتیجا طالب علم تھا اور بھائی کی ملازمت تھی۔اس لئے وہ مزید ٹھہر نہ سکیں۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۹۲۷) حضرت اقدس کی خدمت میں حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:- ایک مرتبہ میرے گھر والوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! مرد تو آپ کی تقریر بھی سنتے ہیں اور درس بھی لیکن ہم ۲۳