حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 25
شاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔ابتدائی حالات ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہماری والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ یہ آپ کا گھر ہے۔آپ کو جو ضرورت ہو بغیر تکلف آپ اس کے متعلق مجھے اطلاع دیں۔آپ کے ساتھ ہمارے تین تعلق ایک تو آپ ہمارے مرید ہیں۔دوسرے آپ سادات ہیں۔تیسرا ہمارا آپ کے ساتھ ایک اور تعلق ہے۔یہ کہہ کر حضور علیہ السلام خاموش ہو گئے۔والدہ صاحبہ کو اس آخری فقرہ سے حیرانگی سی ہوئی۔اور ڈاکٹر صاحب سے آکر ذکر کیا۔اس وقت ہمشیرہ مریم بیگم صاحبہ پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ کوئی روحانی تعلق ہوگا۔لیکن حضور کا یہ قول ظاہری معنوں میں لمبے عرصہ بعد پورا ہو گیا۔ہمشیرہ سیدہ مریم بیگم صاحبہ کی ولادت اور پھر ان کے رشتہ کی وجہ سے“۔تابعین احمد جلد سوم ، با رسوم صفحه ۲۳ ۲۲۰ ) بعد میں اس تعلق نے کئی روپ دھارے اور خدا تعالیٰ نے ان دونوں مقدس خاندانوں کونسلاً بعد نسل نیک، پاک ، صالح اور متقی اولاد سے نوازا اور اس خاندانِ مقدس کی اولاد کو مسند خلافت پر متمکن فرمایا اور ہر دو خاندان متعد درشتوں میں منسلک ہو گئے۔سیرت و اخلاق حضرت سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اپنی والدہ ماجدہ کے سیرت و اخلاق کے بارہ میں بیان فرماتے ہیں:- والدہ صاحبہ کے اعلیٰ اخلاق سے خواتین قادیان اور تحصیل رعیہ کے سب لوگ واقف ہیں جہاں والد صاحب ہسپتال میں متعین تھے۔آپ تقوی و طہارت کا نمونہ تھیں۔خدمت ( دین حق ) کے لئے فراخ حوصلہ سے مال خرچ کرتی تھیں۔چندہ تعمیر (بیت) لندن کی تحریک کے لئے رعیہ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب ( اللہ آپ سے راضی ہو ) تشریف لائے تو دس پندرہ پونڈ جو آپ نے اپنی بیٹی مریم کی شادی پر اس کے ہاتھ پر رکھنے کے ارادہ سے رکھے تھے وہ سارے حافظ صاحب کو بھجواتے ہوئے کہا کہ ۲۵