دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 64 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 64

) 64 سارے بغیر ویزے کے لبنان جانے کی کوشش پاکستان کو نکلنا کتنا دشوار تھا یہ ایک الگ داستان کر رہے تھے لیکن افسوس پکڑے گئے۔یہ سن ہے کیونکہ ہمارے پاسپورٹوں پر لبنان ڈی کے شامی فوجیوں نے ہمیں ایک کیمپ میں بند پورٹ کی سٹیمپ لگی ہوئی تھی اور ہم شام میں کر دیا کہا کہ ابھی ہم پولیس کو بلاتے ہیں جو ہمیں تھے۔اُن دنوں غالباً جنگ کے بعد یہ صورت جیل میں ڈالے گی۔یہ ٹن کے ہم لرز گئے۔حال یا قانون تھا کہ کسی بھی غیر ملکی کو شام سے نکلنے مبارک نے یہاں ہم پر بڑا احسان کیا اور کے لئے وزارت داخلہ یا خارجہ سے اپنے ہمارے سامنے ایک بہت بڑی رقم بطور رشوت پاسپورٹ پر خروج یعنی ملک چھوڑنے کی مہر انہیں دے کر اور منت سماجت کر کے اس بات لگوانی ہوتی تھی۔ہمارے پاسپورٹوں کے پر راضی کیا کہ وہ پولیس کو نہ بلوائیں بلکہ ہمیں چھوڑ مطابق ہمیں لبنان میں ہونا چاہئے تھا۔قصہ مختصر دیں۔پیسے لینے کے بعد فوجیوں نے ہمیں شام ایک روز ہمارا طیارہ دمشق ائر پورٹ سے کراچی کی سرحد میں دھکیل دیا۔یہی مبارک کی حکمت عملی کے لئے پرواز کر گیا۔وطن عزیز کی زمین پر قدم تھی جس میں وہ کامیاب رہا تھا۔شام کی سرحد پر رکھتے ہی ہمیں لگا کہ ہم گویا ایک قسم کے دوزخ ایک ٹیکسی ڈرائیور کھڑا تھا ہمیں دیکھتے ہی کہنے لگا سے نکل آئے ہیں۔آج جب میرے دوست مجھے علم ہے کہ تم لوگ لبنان سے بھاگ کے آئے نے میری ڈائری کو کتاب کی شکل میں شائع ہو۔مبارک ایسے لوگوں کو خاموش کروانا جانتا تھا کرنے کا ارادہ کیا ہے اس بات کو دو سال۔ایک بار پھر ہم دمشق کے ایک اور سستے سے ہو گئے ہیں۔سنا ہے سب واپس پاکستان پہنچ ہوٹل میں پہنچ کے بے سدھ ہو کے فرش پر سو گئے گئے سوائے ایک دوست کے جو کوشش کے باوجود پھر اگلے مرحلے میں چار اور دوست بھی لبنان لبنان سے نہیں نکل سکا۔ہوسکتا ہے اسے وہاں سے شام ہمارے ہوٹل پہنچ گئے۔دمشق سے آگے کوئی دکاندارمل گیا ہو۔