دوزخ سے جنت تک — Page 65
) 65 پاکستان آ کے تبارک کی ایک بات یاد آئی کہ واپسی پر ایک تو اپنی عزت اور وضع داری قائم جس گولی پہ جسکا نام لکھا ہوتا ہے وہ اُسے ڈھونڈھ رکھنے کے لئے خاموش رہا جبکہ دوسر اسب کو خبر دار لیتی ہے۔مجھے ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کرتا پھرتا تھا کہ فلاں راستے سے ہر گز نہ گزرنا ہے کہ ہمارا ایک قید کے دنوں کا ساتھی جو ہماری وہاں ایک کنواں ہے جس میں، میں گر گیا تھا۔طرح لبنان اور شام کے باڈر سے تو بیچ نکلا تھا میری عادت بھی دوسرے شخص کی مانند ہے۔یہاں پاکستان آنے کے بعد کسی دشمنی کی بناء پہ میں نے سب واقعات لکھ دیئے ہیں کیونکہ آجکل پولیس نے اُسے گرفتار کیا اور فیصل آباد کے کسی ایک بار پھر بیرون ممالک جانے کا رحجان اور گاؤں میں اُسے نہر کنارے لے جا کر جعلی پولیس ضرورت بڑھ گئی ہے اسلئے از راہ کرم بیرون مقابلے میں مار دیا۔یہ وہی دوست ہے جسے ہر ملک جانے سے پہلے کوشش کریں کہ آپ خود وقت لبنان شام کے بارڈر پر یہ دھڑکا رہتا تھا محنت کر کے اصل ویزہ اور اصل سفری کہ ابھی کوئی ہمیں گولی مار دے گا۔خدا جانے دستاویزات حاصل کریں۔جہاں جا رہے ہیں اُس کی چھٹی حس نے کیسے اُسے پہلے سے ہی وہاں کی زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں خبر دار کر دیا تھا کہ کوئی گولی اُسکے تعاقب میں کوشش کریں کہ آپکی فلائٹ براہ راست آپکی ہے۔ان کچھ دنوں میں جتنا ہم اُسے جان سکے منزل مقصود کو ہی جارہی ہو۔اگر راہنمائی کے ہماری رائے میں وہ انتہائی شریف النفس آدمی تھا لئے یا با امر مجبوری کسی ایجنٹ کی ضرورت پیش اللہ تعالی اسے غریق رحمت کرے۔آۓ تو صرف اُسے ہی پیسے دیں جس کا کوئی ڈائری ختم ہوگئی ہے آخری بات کرتا چلوں جس مستقل ٹھکانہ ہو اور اچھی شہرت ہو۔اپنی بہو کے لئے یہ سب کچھ لکھا ہے۔دو دوست کسی بیٹیوں بہنوں خواتین کو ناقابل اعتبار ایجنٹوں کی تاریک راہ سے گزر رہے تھے کہ اندھیرے کے باتوں میں آکے اُنکے ہمراہ روانہ نہ کریں۔ہر باعث ایک کنوئیں میں یا گڑھے میں گر گئے۔بات کتاب میں نہیں لکھی جا سکتی۔000