دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 63 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 63

) 63 شام کی سرحد کے قریب پہنچ کر ایک بار پھر اُسکی نہیں آنی۔جس طرح ہمیں والدین نے بچپن ہدایات بدل گئیں۔اُسنے ہمیں بتایا کہ ہمیں کسی نہ میں سکھایا تھا کہ خدا ایک ہے اسی طرح تبارک کسی طرح چھپتے چھپاتے شام کی سرحد کے قریب مبارک کے والدین نے انہیں سکھایا تھا کہ جس پہنچنا ہے اور اس سے پہلے کہ شامی فوجی ہمیں گولی پر تمہارا نام نہیں لکھا وہ تمہیں نہیں لگے گی اور دیکھ لیں ہمیں فوراً لبنان کی طرف چل پڑنا ہے جس گولی پر تمہارا نام لکھا ہے وہ تمہیں پوری دنیا اور اگر وہ ہمیں روکیں تو ہم نے لبنان جانے کی میں سے ڈھونڈ نکالے گی۔اُس کا فلسفہ حیات جو درخواست کرنی ہے شام جانے کا نام بھی نہیں بھی تھا لیکن اس وقت ہم مکمل طور پر اُس کے رحم لینا۔ہمیں اُسکی حکمت عملی بہت غیر مناسب لگ وکرم پر تھے سو ہم اُسکے اشاروں پر اُسکے پیچھے رہی تھی کیونکہ ہم تو لبنان سے آرہے تھے اور شام چلتے رہے شام کے قریب پہنچ کے ایک فوجی چوکی پہنچنا چاہتے تھے۔لیکن ہم اُس وقت مبارک کے نظر آئی یہاں مبارک نے ہمیں حکم دیا کہ واپس ہاتھوں میں یرغمال ہو چکے تھے۔مبارک اور لبنان کی طرف چلنا شروع کرو اور تم لوگوں نے تبارک دونوں بھائی عجیب کمانڈو اور طالبان قسم ایک لفظ نہیں بولنا۔ہمارے عقب میں شامی کے آدمی تھے۔مبارک تو پتہ نہیں کس چیز کے چار فوجی ہمیں دیکھ کے ہماری طرف دوڑے اور پانچ کش لگا کے کہتا تھا اب میں پانچ میل چلائے کہ رک جاؤ نہیں تو گولی چلا دی جائے گی۔پہاڑوں پر چھلانگیں لگاتا ہوا چڑھ سکتا ہوں۔ہم نے مبارک کے اشاروں پر ہاتھ کھڑے کر دونوں بھائی پتہ نہیں کیوں ہر وقت مرنے کے دیئے۔فوجی ہمیں پکڑ کے گھسیٹتے ہوئے اپنے لئے تیار رہتے تھے پتہ نہیں وہ نفس مطمنہ تھے یا کیمپ میں لے گئے۔یہاں مبارک نے ہم سب ویسے زندگی سے بیزار تھے۔کہتے تھے موت کے پاسپورٹ دکھائے جن پر شام کے ویزے جس دن آنی ہے آنی ہے اور جس دن نہیں آنی، لگے ہوئے تھے۔مبارک نے انہیں بتایا کہ ہم