دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 43 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 43

) 43 ہمارے کمرے میں بڑے بڑے ادا کار قسم نہیں ہے۔اُن قیدیوں کو دن میں ایک روٹی اور کے قیدی تھے۔ایک قیدی تو اپنی حرکتوں سے ایک آلو دیا جاتا ہے۔ایک قیدی نے بتایا کہ اس ہنسا ہنسا کے دہرا کر دیتا تھا۔میرا دوست نصیر ہمدم جیل میں تیس فیصد قیدی سیاسی قیدی ہیں۔اگر بڑا خوش اخلاق قسم کا اور بڑا زندہ دل آدمی تھا۔پولیس کو پتہ چل جائے یا صرف شک ہی پڑ جائے نظم پڑھنے میں اور گانے میں اُسکی آواز بہت کہ فلاں شخص حافظ الاسد کا حامی نہیں ہے تو اُسے سریلی تھی سو جلد ہی وہ سارے کمرے میں مقبول کسی جھوٹے کیس میں قید کر لیا جاتا ہے اور اکثر ہو گیا جبکہ جتنے ادبی قسم کے قیدی تھے وہ سب اُس وقت رہا کیا جاتا ہے جب وہ ہوش و حواس میرے دوست بن گئے۔حیرت کی بات تھی کہ دو سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔وہاں ہمارے ساتھ ایک دنوں میں ہی نصیر کے وہ لوگ دوست بن گئے جو پاکستانی نوجوان غالباً اشرف بھی قید تھا۔اُسنے طاقت آزمائی اور کلائی پکڑنے جیسے کاموں میں بتایا کہ میرے بوڑھے والدین کو پاکستان دلچسپی رکھتے تھے اور شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے میں یہ ہی پتا ہے کہ میں امریکہ میں رہتا ہوں جبکہ والے میرے دوست بن گئے۔سچ کہتے ہیں میں دمشق کی اس جیل میں گزشتہ پانچ سالوں کبوتر به کبوتر ، باز به باز۔اس جیل میں مجھے بعض سے قید ہوں اور کبھی میری پیشی تک نہیں ہوئی۔اوقات نماز با جماعت پڑھانے کا بھی موقع ملا۔اس جیل میں قیدیوں سے ہفتے میں ایک دن کام یا خوب اچھا وقت کتنا تھا۔ان قیدیوں میں زیادہ تر بریگار یا جبری مشقت بھی لی جاتی تھی یا دوسری عادی مجرم تھے۔یہاں رہنے کے دوران صورت میں ایک سولیر اشامی کرنسی کے ادا کرنے بڑی معلومات حاصل ہوئیں۔ہمیں بتایا گیا کہ ہوتے تھے۔ایک دن ہماری باری بھی آہی گئی۔اس جیل میں کئی ایسے حصے ہیں جہاں سیاسی قیدی میرے کمرے میں موجود قیدیوں نے کہا کہ ہیں اور اُس حصے کی طرف دیکھنے کی بھی اجازت مشقت کے لئے نہ جانا ورنہ پچھتاؤ گے لیکن مجھے