دوزخ سے جنت تک — Page 42
) 42 اپنے تھر موس میں سے چائے دی اور بتایا کہ اُس چارونا چار دو بیڈوں کے درمیان والے فرش پر کے ہوتے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بغیر تکیے بغیر چادر بغیر کمبل کے لیٹ گئے۔دو تین اتنے معزز اور چھٹے ہوئے بدمعاش کی دوستی دنوں میں ہم اس جگہ کے خوب عادی ہو گئے۔دو ہمارے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھی چنانچہ ہم بھی وقت کھانے کے لئے گھنٹی بجتی تھی سارے قیدی کچھ سینہ تان کے بیٹھ گئے اور اُس سے فری اپنے اپنے کمروں سے نکل کے ڈائیٹنگ ہال کے ہونے کی کوشش کی۔میں نے اشاروں سے اُس باہر جمع ہو جاتے تھے اور ایک دوسرے کو خوب سے پوچھا کہ ہم نے کس بیڈ پر سونا ہے۔یہ ٹن دھکے لطف اندوز ہونے کے لئے دیتے تھے۔سچ کے اُس نے قہقہے لگانے شروع کر دیئے نصیر اور بات ہے کہ میں بھی دھکے دینے والوں میں پیش میں بھی بلاوجہ اور اُسے خوش کرنے کے لئے پیش ہوتا تھا اور ہجوم میں جان بوجھ کے ہاتھ لمبا کر اُسکے ساتھ ہنسنے لگے۔وہ اپنی ہنسی کو ضبط کرتے کے کسی کے چپت رسید کرتا اور پھر دونوں کی تکرار ہوئے بولا کہ تین چار سال نیچے فرش پر سونا ہوگا سن کے لطف اندوز ہوتا۔بوریت دور کرنے کے اور پھر بیڈ ملے گا۔اب ہماری ہنسی یکدم کھانسی لئے کچھ تو کرنا تھا۔ڈائننگ ہال کا دروازہ کھلتا تو میں تبدیل ہوگئی کیونکہ ہمیں اُسکا یہ مذاق پسند نہ آیا سب کھانے پر ٹوٹ پڑتے۔کھانے کے لئے تھا۔میں نے اُسے کہا کہ ہم تو آئے ہی صرف دو اندازاً دس منٹ کا وقفہ ہوتا تھا۔کھانا ظاہر ہے دنوں کے لئے ہیں۔یہ سن کے اُسے ایک بار پھر بہت ہی سادہ ہوتا تھا۔اکثر روٹی اور عجیب بے جنسی کا دورہ پڑ گیا کہنے لگا ہم سب بھی یہاں دو ذائقہ کی دال ہوتی تھی تھوڑی دیر میں ہی کھانا دو دن کے لئے ہی آئے تھے۔اب ہمیں ہمیں ختم ہونے کی گھنٹی بجتی تھی اور ہم ایک آدھ روٹی ہیں سال ہونے کو آئے ہیں۔یئن کے ہمارے قمیض میں چھپا کے ساتھ لے آتے اور بے وقت ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔بھوک لگنے پر کھاتے اور اللہ کا شکر ادا کرتے۔