دوزخ سے جنت تک — Page 44
) 44 تجسس تھا کہ کسی طرح باہر نکل کے جیل کے زیادہ کرنے کے لئے کہا۔میں نے جیب سے سولیرا سے زیادہ حصے دیکھوں۔اُس وقت سے ہی میں نکالا اور کہا اسے خدا کے بندے میری بس ہو گئی سوچ رہا تھا کہ اگر یہاں سے بچ نکلے تو ایک ہے مجھے جانے دو۔اُسنے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے ڈائری ضرور لکھوں گا تا کہ یہاں کے شب و روز یا در ہیں۔زیادہ تر قیدی سولیرا ادا کرنے کو ترجیح Syria tube دیتے تھے۔ہماری باری والے دن انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ سو لیرے دینے ہیں یا کام پر كمية شهداء أبو الخطاب أو فيك شي جانا ہے۔نصیر نے فوراً ایک سولیرہ ادا کر دیا۔میں اس لئے دوڑ دوڑ کے کام کرو۔بہر حال گرتے نے کام پہ جانے کی حامی بھر لی۔کوئی دس قیدی پڑتے دو چکر اور لگائے لیکن اسکے بعد میری واقعی آج مشقت کے لئے بلائے گئے تھے۔پہلا کام بس ہو گئی۔اب جب میرے کندھے پر بوری دیکھتے ہی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ مجھے سو پھینکی گئی تو میں زمین پر گر گیا اور باوجود کوشش لیرہ دے دینا چاہئے تھا۔سب سے پہلا کام تھا کے اُٹھ نہ سکا۔زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب ایک ٹرک سے آٹے کی بوریاں اُتارنا۔بوریاں ایسا بوجھ اٹھایا ورنہ میری صحت تو ایسی تھی کہ چائے شائد ایک ایک من کی تھیں لائن بنائی گئی ٹرک کا کپ بھی احتیاط سے اُٹھاتا ہوں کہ کہیں کلائی کے قریب جا کے ہم کاندھا آگے کرتے تھے اور میں موچ نہ آ جائے۔اب جب میں گرا تو پولیس ٹرک پر کھڑا آدمی زور سے بوری کندھے پر پھینکتا والے آکے مجھ پر گر جنے لگے لیکن تھوڑی دیر بعد تھا۔دو تین چکر میں نے لگا لئے لیکن پھر میری انہیں یقین ہو گیا کہ میں بہانہ نہیں کر رہا تھا اسلئے رفتار کم ہو گئی جس پر ایک سپاہی نے میری ٹانگوں انہوں نے مجھے پیاز اور آلو چھیلنے کا کام دے دیا پر پرڈنڈا رسید کرتے ہوئے مجھے دوڑ دوڑ کے کام۔تقریباً سات ہزار قیدیوں کا کھانا پکانا تھا اور