دوزخ سے جنت تک — Page 24
) 24 اس موضوع پر اور رشوت نہ دینے پر لڑائی ہوگئی ملک میں ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ایک قیدی کا جب جسکی وجہ سے اُسے حکومت دشمن قرار دیا گیا اور میں نے تفصیلی انٹرویو لیا تو اُس کے حالات سن اب وہ چھ سال سے اسی عمارت کے مختلف کمروں کے میرے ہوش اڑ گئے اُس پہ اور اسکے گھر میں قید ہے اس نے بتایا کہ جب اُسے پکڑا گیا تھا والوں پہ اسکے بہن بھائیوں پہ اتنا ظلم ہوا تھا کہ انہیں لکھنا کتاب کی تو پلائر کے ساتھ اُسکے ہاتھوں اور پاؤں کے ہیں کے میں ناخن کھینچ لئے گئے تھے۔اُسنے بتایا کہ ایک دن اسکے سامنے چھت پر ایک حرمت کے خلاف ہے۔اُس دن کے بعد میں نے خاموشی اختیار کر لی لیکن میں دل ہی دل میں دعا کر ملزم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر پانچویں رہا تھا کہ یا اللہ ان جیلوں کو ان زندانوں کو توڑ منزل سے اُسے نیچے دھکا دے دیا گیا جہاں سے دے جس میں بے گناہ لوگوں کو اذیتیں دی گر کے وہ ہلاک ہو گیا۔ایک قیدی نے بتایا کہ جارہی ہیں۔حافظ الاسد کی حکومت نے اس ایک دن اُسکے سامنے چار نوجوان اُسکے کمرے وقت اپنے تمام مخالفین کو سیاسی قیدی بنایا ہوا ہے میں لائے گئے اور فوجیوں نے انہیں ٹھوکریں مار اور زیادہ امید یہی ہے کہ یہ سیاسی قیدی اُس وقت مار کے اور اُن کے سر دیوار سے شیخ شیخ کے بلاک رہا ہوں گے جب انہیں اپنی ہوش نہیں ہوگی لیکن کر دیا۔خدا جانے اُن کا قصور کیا تھا۔اس کے علاوہ ان کے بچے آزاد ہیں کسی نہ کسی دن وہ اس کے اُسنے اتنے واقعات بتائے کہ میں خوف اور خلاف بغاوت ضرور کریں گے۔اس طرح دہشت کے مارے دنگ رہ گیا کہ ایک اسلامی خوفزدہ کر کے کچھ سال تو لوگوں کو خاموش رکھا