دوزخ سے جنت تک — Page 23
) 23 پوچھنے کے اُس نے اپنا نام نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی دوست نے مجھے خبر دار کیا کہ آئیندہ ایسا لفظ منہ دوبارہ نظر آیا۔نجانے کون فرشتہ صفت آدمی سے نہ نکالنا ورنہ تمہارا آخری سانس بھی اسی جیل تھا۔دنیا میں ہر جگہ اچھے لوگ موجود ہیں اور بہت میں نکلے گا۔اُس نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ جس سے ایسے ہیں جو نیکی کرتے ہوئے کبھی سودوزیاں دفتر میں جس گھر میں جس کار میں حافظ الاسد کی نہیں دیکھتے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس تصویر نہ لگی ہو اُس گھر کے سربراہ کو یا قید کر لیا پاکستانی بھائی کو دین و دنیا کی نعمتوں سے جاتا ہے یا ہمیشہ کے لئے وہ غائب کر دیا جاتا ہے نوازے۔اس تہہ خانے میں اس کال کوٹھڑی میں۔اس جیل کی طرح بہت سی جیلیں صرف دمشق قیدیوں کے درمیان چھوٹی موٹی لڑائی معمول کی میں ہیں۔اس نے بتایا کہ اسی جیل میں کئی ایسے بات تھی لیکن ویسے مجموعی طور پر سب اچھے تھے کمرے ہیں جن میں حکومت کے باغی دس دس تعاون کرنے والے تھے۔ہمیں ابھی چونکہ ملک پندرہ پندرہ سالوں سے قید تنہائی کاٹ رہے ہیں کی سیاسی صورتحال اور اس کی سنگینی کا علم نہیں تھا۔اور کئی ایسے بال ہیں جن میں سینکڑوں قیدی بند اس لئے ایک دن میں نے کہ دیا کہ حافظ الاسد ہیں جنہیں دن میں صرف ایک روٹی دی جاتی ہے اچھا آدمی نہیں ہے۔یہ سنتے ہی میرے قریبی اور وہ ڈھانچے بن چکے ہیں۔میں نے اُسے بتایا قیدی زرد ہو گئے اور کانوں کو ہاتھ لگا کے تو بہ تو بہ کہ میں نے ایک ہال میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کرنے لگے اور ایک نے تو اپنے ہاتھ سے میرا ڈھانچے بن چکے ہیں اُس نے کہا یہاں دمشق منہ بند کر دیا۔میرے لئے یہ عجیب تھا کیونکہ میں کتنے ہی نجی عقوبت خانے ہیں جہاں سیاسی پاکستان میں ہم سیاسی راہنماؤں سے متعلق اپنی قیدیوں کو بھوکا رکھ کے مارا جاتا ہے۔اسنے بتایا رائے گلیوں میں بھی سناتے پھرتے ہیں لیکن کہ خود اُسنے اپنی ٹیکسی میں حافظ الاسد کی تصویر یہاں معاملہ اور تھا میرے ایک عربی قیدی نہیں لگائی ہوئی تھی اُسکی ایک پولیس والے سے