دوزخ سے جنت تک — Page 66
) جیل میں میرے ایک ساتھی قیدی کے تاثرات 66 1988 کا یہ واقعہ ہے جب ہم دمشق میں قید مبارک صدیقی صاحب کا انداز تحریر چونکہ بڑا ہوئے اور بہت ہی اذیت ناک قید کاٹ کے لبنا شگفتہ ہے اس لئے انہوں نے سارے واقعات ن بجھوا دیئے گئے۔آج بھی اُن دنوں کا سوچتا ہوں تو جسم پہ ایک لرزہ طاری بڑے ہلکے پھلکے انداز میں درج کر دیئے ہیں حقیقت ہو جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خوفناک ہے کہ وہ بڑا ہی مشکل وقت تھا اور ایسے اذیت خواب تھا جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کے آئے ناک اور جان لیوا مر حلے تھے کہ اللہ سب کو محفوظ ہیں۔جیل میں ایک ایک دن ایک ایک مہینے کے رکھے اور دمشق کے تہہ خانوں اور عقوبت خانوں برابر تھا کیونکہ صبح شام دن رات ایک جیسے تھے۔سے سب کو بچائے۔ہمارے ساتھی عربی قیدی۔ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ اُس جیل سے چھوٹ ہمیں کہتے تھے کہ تم دس سال سے پہلے جیل سے گئے اور جنگ کے زمانے میں شام اور لبنان کی نکل ہی نہیں سکتے۔لبنان اور شام کی سرحد پر ایک سرحد پر فوجیوں کی گولیوں سے محفوظ رہے۔دفعہ تو ایسا وقت آیا مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ہمارا