دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 58 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 58

) 58 رہا تھا۔میں اپنی بھوک مٹانے کے لئے پورے بھائیوں کا ہاتھ تھا۔بعض نے شبہ ظاہر کیا کہ ملک ملک کو بدنام نہیں کر سکتا تھا۔وطن عزیز سے محبت کا شام میں انکا اصل کام پہلے پولیس سے مل کے قرض کہیں تو چکانا تھا۔اگلے ہی روز تبارک کا ایک پکڑوانا اور پھر رشوت لے کے چھڑوانا تھا اور بھائی مبارک ہمیں ڈھونڈتا ہوا شام سے اس یہ پولیس کے لئے ہی کام کر رہے ہیں۔بہر حال گاؤں آن پہنچا اور پھر سب سے پوچھتے ہوئے وہ جتنے منہ اتنی باتیں ہمارے لئے یہ سب کہانیاں ہم تک پہنچ گیا۔ہمیں آج تک نہیں معلوم وہ ہم تھیں۔ہماری جس طرح اُن دونوں بھائیوں تک پہنچ کیسے گیا۔کوئی فون کوئی خط کوئی وائرلیس نے مدد کی ہم عمر بھر اُنکے بارے میں اچھے نہیں تھی۔لیکن اُسنے ہمیں ڈھونڈ لیا ان دونوں ہی خیالات رکھیں گے اور انہیں دعا ہی دیں گے۔بھائیوں کا ذریعہ روزگار غیر ملکی کرنسی کی خریدو ہم شام سے لبنان اس لئے آئے تھے کہ شائد فروخت تھی۔اسکے علاوہ لوگوں کو باڈر پار کروانا، لبنان کے ائر پورٹ سے جرمنی چلیں جائیں گے اور قیدیوں کو چھڑوانا تھا۔ان دونوں بھائیوں کے۔یہاں آکے پتا چلا کہ لبنان کا ایر پورٹ بمباری پاس ہر وقت ایک بہت بھاری رقم ہوتی تھی۔کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے اور وہاں رن وے پر نکے بارہ میں مختلف کہانیاں مشہور تھیں۔کسی نے اب جہازوں کی جگہ بچے سائیکل چلاتے ہیں۔کہا کہ دونوں بھائی پاکستان میں قتل کی متعدد کوئی سمندری راستہ نہیں ہے۔اگر خط پاکستان وارداتوں میں مطلوب تھے۔پھر جب ایک بجھوائیں تو ایک سال میں پہنچتا ہے۔کسی بھی ملک پاکستانی طیارہ اغواء ہو کے شام پہنچایا گیا تو یہ کی ایمبیسی یہاں نہیں ہے۔یہ کالا پانی ہے یہاں یہ دونوں بھائی بھی اسی طیارے میں تھے پھر کسی اپنی زندگی کی جنگ لڑو اور اگر لبنان سے فرار سیاسی بناء پر دونوں بھائی شام میں ہی رہ گئے۔ہونا ہے تو صرف ایک ہی رستہ ہے کہ غیر قانونی کسی کا کہنا تھا کہ طیارہ اغواء کرنے میں بھی انہیں طور پہ اپنی جان کا رسک لے کے یا اسرائیل جایا