دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 57 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 57

) 57 ایک ہی بیٹا تھا جو جنگ میں مارا گیا ہے اب میری ہورہے تھے۔میں سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کتنی قسم صرف چھ بیٹیاں ہیں گاؤں میں گنتی کے غیر شادی کے غم اور کتنی قسم کی جیلیں ہیں۔شده نو جوان ہیں۔تم میری اس بیٹی سے شادی کر میرا دل چاہ رہا تھا کہ واپس مڑ جاؤں لیکن لو۔اُسکی بیٹی کو دیکھ کے ایک دفعہ تو مجھے چپ لگ میں آگے کو چلتا رہا۔کچھ ہی دور ایک ڈھابے گئی وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔اُس لڑکی نے یہ کچھ لوگ کھانا کھاتے نظر آئے۔میں بھی کچھ دیر بھی مجھ سے دو تین باتیں کیں میرا نام پوچھا آرام کے لئے اُس ڈھابے کے ڈولتے ہوئے میرے نام کی خوبصورتی کی تعریف کی اور دمشق ہوئے بینچ پہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ بیٹھ گیا۔میں ہمارے قید ہو جانے پر اظہار افسوس کیا۔کافی دیر کے بعد ہوٹل کے مالک نے اشاروں میں تصور ہی تصور میں اُس لڑکی کے ساتھ لبنان کی میں مجھ سے پوچھا کچھ کھاؤ گے۔میں نے جیب گلیوں میں پھرتا رہا اور ہمارے بچے اسرائیلی خالی دکھاتے ہوئے اشاروں سے بتایا کہ ٹمینکوں کو پتھر مارتے نظر آئے۔پتہ نہیں کیوں میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔اُس مہربان اور لیکن میں ڈگمگاتے پاؤں شکستہ دل اور بوجھل ضمیر فرشتہ صفت شخص نے ایک روٹی کے اندر کچھ کے ساتھ دکان سے باہر نکل آیا۔ایک دو بار مر فلافل قسم کی چیز رکھ کے مجھے دی جو کہ میں نے کے دیکھا ڑکا ، واپس جانے کا سوچا لیکن پھر کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے لے لی۔بہت لذیذ آگے کو چل پڑا۔میں پچیس سال کا غیر منگنی تھی۔اُس نے پوچھا کہ کس ملک کے رہنے شدہ نوجوان تھا۔اُس لبنانی لڑکی کی ہمدردی کی والے ہو۔پتہ نہیں کیوں لیکن غیر ارادی طور پر باتیں یاد کر کے اور اُس کے باپ کی یہ مجبوری یاد میں نے اُسے کہا کہ میں انڈیا کا رہنے والا ہوں۔کر کے کہ چھ بیٹیاں ہیں ایک ہی بیٹا تھا جو جنگ دار اصل جن حالات میں مجھ سے یہ سوال پوچھا میں مارا گیا ہے ، غم سے دل چھلنی اور پاؤں بوجھل گیا تھا مجھے پاکستان کہتے ہوئے اچھا نہیں لگ