ولکن شُبّھہ لھم — Page 70
اور کرنے کے لائق تھا جسم سمیت زندہ اٹھا کر چوتھے آسمان پر لے جا بٹھائے ؛ لیکن ایسا نہیں ہوا اور کسی ایک صحابی کی زبان پر بھی یہ اعتراض نہ آیا۔ان میں ابو سیکر یہ بھی تھے اور عمر بھی د عثمان " بھی اور علی بھی اور پھر عائشہ بھی انہی میں تھیں۔اور فاطمتہ الز ہیرا بھی۔یہ سب عشاق رسول اس وقت موجود تھے لیکن کسی ایک نے بھی تو اعتراض کے لب نہیں کھولے اور سب نے اپنے مولا کی رضا اور اس کی قضاء کے حضور روتے روتے سر جھکا دیئے !! قرآن کا ہر فیصلہ ان کے لیے ناطق اور آخری تھا ! اللہ اللہ صحابہ کے تقویٰ اور روح اطاعت کی کیا شان تھی !!! ایک طرف تو دفور عشق کا یہ عالم کہ اپنے محبوب رسُولِ عربی صلے اللہ علیہ وسلم کے وصال کا تصور بھی برداشت نہ تھا۔اور ہاتھ اُٹھ اُٹھ کر تلواروں کے قبضوں پر پڑتے تھے۔کہ جو کوئی اس رسول کی وفات کی خبر زبان پر لائے گا۔اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔پھر کہاں اطاعت خداوندی کا یہ بے مثال منظر کہ قرآن کے ایک چھوٹے سے کلمے کی خاطر بے چون و چرا اسی سہول کی جدائی برداشت کر گئے کہ جسے زندہ رکھنے کی خاطر ان میں سے ہر ایک کو ہزار جانیں بھی دینی پڑتیں۔صد ہزار بادہ بھی مرنا پڑتا تو ور ریغ نہ کرتے دیکھو دیکھو کلام الہی کے ان چند الفاظ نے کیسا تغیر عظیم بر پا کیا۔کہ وہ عشاق جو چند لھے پہلے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر زبان پر لانے والوں کی جان کے در پہلے تھے۔خود ان کی اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور قومی ہیکل جوان غم واندوہ کی شدت سے پچھاڑ کھا کھا کر زمین پر گرے با لیکن یہ وہم تک کسی کے دل میں نہ گذرا کہ قرآن کی ایک چھوٹی سی آیت کی تاویل اپنی مرضی کے مطابق کرلیں۔اورمحمد عربی صلی الہ علیہ وسلم کی وفات تسلیم کرنے سے انکار کر دیں !!! پھر دیکھو آجکل کے علماء کو کیا ہوگیا !!! کیوں ان کی محبت کے دھارے رسول مکی و مدنی سے رُخ موڑ کر میچ ناصری کی جانب بہنے لگے اور کیوں بنی اسرائیل کے اس گذرے ہوئے رسول کی محبت میں ایسے حد سے گذر گئے کہ قرآن کے واضح ارشادات کو بھی پس پشت ڈالنے کی جرات کرنے لگے۔سیمانتک کہ جن الفاظ میں یہ علماء اليه