ولکن شُبّھہ لھم — Page 71
خود بھی مانتے ہیں کہ قرآن کریم نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر دی تھی۔قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ LONGAGE کے وہی بعینہ وہی الفاظ جب سیچ ناصری کے حق میں استعمال ہوئے تو اس آیت کے معنے کچھ اور کرنے لگے۔کاش وہ حسان بن ثابت نے کی اندھی مگر پیر بصیرت آنکھ ہی سے عرب میں ظاہر ہونے والے اُس نور کو دیکھنے کی قدرت رکھتے اور اس انسان کامل کے حسن کو سراہا جانتے کہ جو حجیم نور تھا اور میں نے صحابہ کے قلوب کو کمال حسن سے شیفتہ و فریفتہ کر رکھا تھا۔کاش وہ حسان بن ثابت کے ہمنوا ہو کہ فخر دو عالم صلے او وسلم کو مخاطب کر کے رکھ سکتے۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَّاظِرِى فَعَى عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْركَ فليمتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أحاذر کہ اے میرے محبوب کو تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔میں آج میری آنکھ کی پتلی تیری وفات سے اندھی ہو گئی۔اب تیرے بعد جو چاہے مرتا پھرے۔مجھے تو ایک تیری ہی موت کا ڈر تھا۔یہ وہ شعر ہیں جو ایک نابینا شاعر حضرت حسان بن ثابت نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر آپ کو مخاطب کرکے کہے تھے۔اسے آقائے مکی و مدنی کی محبت کا دم بھرنے والو دیکھو! یہ تھی وہ روح جس نے درج کے ساتھ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اپنے محبوب آقا کے ساتھ ہمثال محبت کی۔ان کے نزدیک اگر دنیا میں کوئی انسان محمد رہنے کا حق رکھتا تھا تو فقط وہ رسولِ عربی صلے اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور ان کی وفات کے بعد انہیں کچھ بھی اس امر کی پرواہ نہ تھی کہ خطہ ارض پر آنے والے ہر زمانے کے تمام رسول سہزار دفعہ فوت ہو جائیں۔لیکن ہمارے ان کرم فرما علماء کو بھی ذرا دیکھو کہ ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مارے دیتے ہیں اور سیم ناصری کی زندگی کے کیسے