ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 69 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 69

تھی کہ :- ۶۹ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ فَإِنْ مات أو قُتِلَ انْقَلَبْةُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (ال عمران مخ پاره - رکوع ۶) یعنی نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم مگر خدا کے رسول۔ان سے پہلے جتنے رسول تھے سب گذر گئے۔پھر اگر آپ بھی وفات پا جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ روایت آتی ہے کہ اس آیت کو سنتے ہی صحابہ کو یقین ہو گیا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں۔اور حضرت عمر کا تو یہ حال ہوا کہ صدمہ کی شدت سے نیم جان ہو گئے گھٹنوں میں سکت باقی نہ رہی اور لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ نہیں یوں محسوس ہوا جیسے یہ آیت پہلی مرتبہ نازل ہوئی ہو یعنی اس کا یہ مفہوم پہلی مرتبہ ہم پر روشن ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کی طرح وفات پا جائیں گے۔پھر کیا ہمیں علماء سے یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ اگر اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ میں طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام نبی فوت ہو گئے اسی طرح رسولِ اکرم صلے اللہ علیہ وسلم بھی وفات پا جائیں گے تو کیوں حضرت عمرہ اور ان کے ہم خیال صحابہ نے حضرت ابو بحریہ سے تلواریں سونتے ہوئے یہ سوال نہ کیا کہ جس آیت کی رو سے تم سید کو لد آدم صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دیتے ہو وہ تو ایک ادنی اشان کے نبی یعنی مسیح ناصری کو بھی مارنے کی طاقت نہیں رکھتی اگر وہ اس آیت کے باوجود زندہ آسمان پر چڑھ سکتے ہیں تو کیوں ہمارا آقا ایسا نہیں کر سکتا جو مخیر دو عالم تھا اور سب نبیوں کی بڑی اسے عطا ہوئی تھی یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مقصود عالم کہ جس کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا اُسے تو یہ آیت ناز کر زیر زمین ملا دے اور ایک ادنی نشان کے نبی کو جو اس کی غلامی پر نشہ