ولکن شُبّھہ لھم — Page 51
بیان فرما دی ہے۔وہ آیت کریمیہ یہ ہے۔اه الله يَتَوَى الاَنْفُضُ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَا مِهَا (الزمر: ۴۳) ترجمہ: اللہ ہر شخص کی روح اس کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور میں کی موت نہیں آئی (اس کی روح) اس کی نیند کے وقت قبض کرتا ہے) پس وہ ذی روح جس کی اللہ تعالے تونی قرار دے سوائے اس کے کہ اس کا نیند کی حالت میں ہونا ثابت ہو ، اس کا مرنا یقینی اور قطعی ثابت ہو جاتا ہے۔١٢ آپ کا ایک اور اعتراض قائلین وفات مسیح پر ان کی معمولی تعداد اور کم تر مقام ہے جہاں آپ نے یہ تسلیم کر لیا وہاں آپ کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا۔کیونکہ ساری کتاب میں آپ نے یہ شور مچا رکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ایک غیر منقطع اجماع چلا آرہا ہے۔کہتے ہیں کہ در دوقلو کا حافظہ نہیں ہوتا۔اپنی ایک جھوٹی دلیل پر آپ نے خود ایک تبر رکھ دیا جب یہ کہ دیا کہ از منہ اولی میں ایک تعداد رہی ہے۔اگر چہ آپ نے قائلین وفات میچ کو مقام میں کم تر اور تعداد میں معمولی قرار دیا ہے۔وہ جتنے بھی ہوں اور جیسے بھی ہوں، ان کے صالح ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔پیس کہاں گئی آپ کی تعلی کہ رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کے زمانہ سے اب تک اجماع چلا آرہا ہے۔مولوی صاحب! جب گذشته اکابرین امت کے بارہ میں بات کریں تو مہوش سے بات کیا کریں کہ آپ نے جن لوگوں کو معدودے چند اور سر پھرے، لکھا ہے۔یادرکھیں کہ ان میں حضرت ابن عربی بھی شامل ہیں اور اسی فہرست میں علامہ ابن الوردی اور شیخ محمد کرم صابری