ولکن شُبّھہ لھم — Page 50
لیکن آپ کے دماغ میں نہ جانے کتنے پردے پڑ چکے ہیں کہ یہ واضح بات بھی اس میں داخل نہیں ہو رہی۔نزول سے مراد قرآنی محاورہ میں فائدہ مند چیز کی تخلیق یا بعثت - #H H H حیات مسیح کے سلسلہ میں آپ نے آیت يَا عيسى إِلَى مُتَوَفِّيكَ وَدَافِعُكَ إِلَى میں الفاظ متونيك کے تفاسیر میں بیان کردہ بعض معانی کا ذکر کر کے نتیجہ رفع جسمانی نکالا ہے جو یقیناً آپ کی کوتاہ بینی پر دلالت کرتا ہے۔لفظ توفی کے بارہ میں یہ پہلا اصول آپ کیسے بھول گئے کہ باب تفعل سے یہ لفظ ہو۔اللہ قابل ہو اور ذی روح مفعول ہو تو معنے سوائے موت یا نیند کے (جو موت ہی کی عارضی صورت ہے) اور کوئی معنے نہیں لے جا سکتے۔لیکن اگر موت کی بجائے نیند کے معنے کرنے ہوں تو اس کے لیے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر قرینے کے بغیر متوفی کا لفظ استعمال ہو گا تو مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ سوائے موت کے معنے ہو ہی نہیں سکتے۔جہاں تک مفترین کی متعدد آراء کا تعلق ہے ، انہوں نے بھی دیگر منے بیان کرنے کے با وجو د موت کے معنوں کو نظر اندازہ نہیں کیا۔تاہم ان کے دوسرے معانی کو اپنے عقید سے کی تائید میں اختیار کر لیا آپ کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ان کے اس استدلال کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے جس کے مقابل پر یہ اہل اور غیر مبدل قانون کھڑا ہو کہ ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آتی کہ خدا تعالیٰ فاعل ہو ، ذی روح مفعول ہو اور باب تفعل میں لفظ متونی استعمال کیا گیا ہو تو مراد موت اور نیند کے سوا کچھ اور ہو۔است آپ بار بار بھول جاتے ہیں اور بار بار ہم آپ کو یاد دلا نہیں کہ تفاسیر میں جانے سے پہلے آیت کریمہ سے اپنا پیچھا چھڑا لیں میں میں خدا تعالے نے خود اسی لفظ توفی کی کامل تغییر