ولکن شُبّھہ لھم — Page 52
اور اسی طرح بعض دیگر مفترین اور علماء بھی شامل ہیں جو نزول مسیح سے مراد ہرگز جسمانی نزول نہیں لیتے بلکہ روحانی اور بروزی طور پر کسی دوسرے جسم میں ظاہر ہونے ہی کو نزول قرار دیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی زمانہ میں اکثریت کا کسی بات پر جم جانا جسے ہرگز اجماع کی حیثیت حاصل نہیں کیسے دلیل بن سکتا ہے۔ایسی دلیل کی کوئی بھی شرعی یا عقلی حیثیت نہیں۔ایک طرف نصوص قرآنی آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں، احادیث صحیحہ آپ کو دکھائی جاتی ہیں اور ناقابل تردید عقلی دلائل آپ کے سامنے لائے جاتے ہیں۔مگر آپ اکثریت کا ڈھونگ رچا کر اجماع کا دعوی کر دیتے ہیں۔ایسے اجماع کی نصوص قرآنیہ کے سامنے کوئی بھی حیثیت نہیں۔پھر آپ اپنے اجماع کی قلعی خود ہی یہ کہ کر کھول دیتے ہیں کہ اکثریت اس عقیدہ کی حامل ہے اور پھر اس نام نہاد اکثریت کو نصوص قرآنیہ کے خلاف دلیل بنا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔ہم تو ایسے شخص کو سمجھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔آپ سے تو خدا ہی سمجھے اور ضرور سمجھے گا۔آپ نے قرب قیامت میں حضرت عیسی کے قتل درقبال کے عہد کا ذکر کر کے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اللہ تعالے کو حضرت عیسیٰ سے عہد کرتے وقت معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں ؟ مولوی صاحب آپ کے طرز استدلال پر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی دور کی کوڑی لانے کی کوشش کی ہے۔ان احادیث قدسیہ پر آپ کی نظر کیوں نہیں گئی کہ مین کے مطابق خود ساخت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ آخری زمانہ میں مسیح نہ صرف قبل دقبال کرے گا بلکہ قتل خنزیر اور کسیر صلیب بھی۔اب ان قطعی شہارات کے بعد آپ جو مسیح تک پہنچے ہیں اور ایسی حدیث لائے ہیں کہ جس کی سند ہی قابل اعتبار نہیں۔اس عبث کوشش کی ضرورت ہی کیا تھی۔لیکن اصل تو آپ کی اس بوکھلاہٹ پر لطعت آیا ہے کہ جو دلیل جماعت احمدیہ اپنے حق کے طور پر پیش کرتی