ولکن شُبّھہ لھم — Page 48
۴۸ ہندا۔پہلی ضرب تو آپ کی دلیل کی قطعیت پر یہ پڑگئی کہ اس آیت کریمیہ کی ایک دوسری تغییر جو آپ سے بہتر لوگوں نے کی ہے آپ کی تفسیر سے متصادم ہے اس لیے اگر گذشتہ زمانہ کے جید علماء نے بھی یہ تفسیر کی ہوتی تو اختلاف تغییر کے ہوتے ہوئے کسی ایک تغیر کو محکم دلیل قرار دینا ہرگز جائز نہیں۔ویسے نزول مسیح کے ہم بھی قائل ہیں اور وہ صحابہ رضا بھی قائل تھے جنہوں نے مجموعی تصور ہیں جسے اسمارے سکوتی کہا جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد شہادت دے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل سب انبیا اور فتنے پاچکے ہیں۔پس وفات مسیج کے قطعی طور پر ثابت ہونے کے بعد اس آیت کر غیر کی مسیح کے تعلق میں صرف یہی تغییر ممکن ہے کہ روحانی مسیح یا مثیل مسیح کا نازل ہونا قرب ساعۃ کی نشانی ہو گا اور ساختہ کا معنی و ہی کرنا پڑے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق میں اس آمیت میں ساعتہ کا معنی کیا جاتا ہے کہ اقتربت السَّاعَةُ وَالشَّقِّ الْقَمَرُ دیکھو ساعة قريب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔پس جو ساعتہ قطعی طور پر آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شق القمر کے وقت قریب آئی تھی۔ویسی ہی ساعت کے قرب کی پیش گوئی اس آیت میں کی گئی ہے کہ نزول مسیح کے ساتھ ایک دفعہ پھر وہ ساختہ قریب آجائے گی۔وہ قیامت جو زمین کے تہہ و بالا ہو کر برباد ہونے کی آپ کے دماغ میں ہے اس کا تعلق نہ اس ساعتہ سے ہے جو چاند کے پھٹنے سے منسلک کی گئی اور نہ اس ساعتہ سے ہے بچی کا کراس زیر سمت آیت کریمہ میں ہے۔ه : - هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدين كله۔(الصعت : ۱) اس آیت سے آپ نے نزول مسیح مراد لے کر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام