ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 49 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 49

۴۹ کی تائیدی عبارتیں اس تغیر کے حق میں نقل کی ہیں۔اس تکلف کی آپ کو چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ حضرت مرزا صاحب کا دعوی تو خود مسیح موعود ہونے کا ہے اور وہ ان آیات کو اپنے حق میں پیش کر رہے ہیں آپ نے لَا تَقْرَبُوا الصلوة کی طرح حضرت مرزا صاحب کا آدھا موقفت نقل کیا ہے۔ہمارا آپ کا تو نزاع ہی یہ ہے کہ بموجب العام الہی مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کہ وعدہ کے موافق " حضرت مرزہ غلام احمد قادیانی کواللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے طور پر مبعوث فرمایا۔پس بار بار آپ کو ہم یاد دہانی کراتے ہیں کہ فیصلہ کن امر محض وفات مسیح یا حیات میسی کا نتزاع ہے۔اگر ، جیسا کہ قطعی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ وہ وفات شدہ ہے تو اس قسم کے آپ کے دلائل محمض ٹامک ٹوئیاں ہیں۔نزول مسیح کے منے سوائے اس کے کوئی انہیں ہو سکتے کہ اس دنیا میں پیدا ہونے والے کسی کو سیب کے رنگ میں مبعوث کیا جائے اور اس بعثت کا نام نز دل قرار پائے۔جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چند کہ جسم سمیت آسمان سے نہیں اتارا گیا بلکہ مبعوث فرمایا گیا۔بایں ہمہ آپ کے لیے لفظ نزول سے پیدا ہونے والے اشتباہ کو دور کر دیا گیا۔حضرت اقدس سید ناظمہ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو بے انتہا بلند ہے۔قرآن کریم تو لفظ نزول ان عام چیزوں کے لیے بھی بیان فرماتا ہے جو زمین پر پیدا ہونے والی اور زمین چلنے پھرنے والی بعض حیوانی صورتیں ہیں۔فرمایا وَأَنْزَلْنَا الْحَديد (الحديد : ۳۶) وَأَنزَلَ لكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ تُمَنِيَةَ أَزْوَاجِ اب ہم آپ کو کتنی بار سمجھائیں کہ مولوی صاحب! یہ قرآنی محاورہ ہے، یہ قرآنی محاورہ ہے !! یہ قرآنی محاورہ ہے !!! اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔(الزمر: (2) چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی اتنی بار یہ بات یاد کرائی جائے تو انہیں یاد ہو جاتی ہے