ولکن شُبّھہ لھم — Page 32
مردی تفسیر پشتمل تھا تو آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص علی بن ابی طلحہ سے مروی اس نسخہ کے مطالعہ کے لیے مصر کا قصد سفر کرے یہی اہم نسخہ امام بخاری کے نزدیک قابل اعتماد تھا اس بارہ میں علامہ ابن حجر کی رائے ملاحظہ کیجیے۔وہ فرماتے ہیں :۔وَهَذِهِ الشَّجَةُ حانَتْ عِنْدَ إِلَى صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْت رَوَاهَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهِيَ عِنْدَ الْبُخَارِي عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَقَدِ اعْتَمَدَ عَلَيْهَا في صَحِيحِهِ كَثِيراً فيما تعلقه عَنِ ابْنِ عَبَّاس (الاتقان فی علوم القرآن للعلامہ سیوطی جلد ۲ ص ۳۲ مطبوعہ مصر) یعنی یہ نسخہ لینٹ کے کاتب ابو صالح کے پاس تھا جسے معاویہ بن صالح نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور یہ روایات امام بخاری کے پاس ابو صالح سے پہنچی ہیں اور امام بخاری نے اس نسخہ پر اپنی صحیح بخاری میں اتنازیادہ اعتماد کیا ہے که علی بن ابی طلحہ کی ابن عباس سے مروی ایسی روایات بطور تعلیق (یعنی بلا سند) اپنی کتاب میں درج کی ہیں۔آپ کا یہ اعتراض کہ علی بن ابی طلحہ کا سماع ابن عباس سے ثابت نہیں کوئی نئی تحقیق نہیں بلکہ علماء نے اس سوال کی تسلی بخش تحقیق کر کے پھر علی بن ابی طلحہ کی روایات قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چنا نچہ علامہ سیوطی فرماتے ہیں :- " وَقَالَ قَوْم لَمْ يَسْمَعْ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسِ التَّفْسِيْرَ وَ إِنَّمَا أَخَذَهُ عَنْ مُجَاهِرٍ أَوْ سَعِيدٍ ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ابْنُ حَجْرٍ بَعْدَ أَنْ عَرَفتُ الوَاسِطَة وَهُوَ ثِقَةٌ فَلَا ضَيْرَ في ذلِكَ الاتقان في علوم القرآن للعلامہ سیوطی جز ۲ ص ۳۲ مطبوعہ مصر)