ولکن شُبّھہ لھم — Page 33
یعنی ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ابن ابی طلحہ نے ابن عباس سے تفسیر نہیں سنی بلکہ (ابن عباس کے شاگردوں) مجاہد اور سعید بن جبیر سے اخذ کی ہے (یہی وجہ ہے کہ ) علامہ ابن حجر نے کہا کہ علی بن ابی طلحہ اور ابن عباس کے درمیانی واسطہ کے معلوم ہو جانے کے بعد اور یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ مجاہد اور سعید بن جبیر ثقہ راوی ہیں علی بن ابی طلحہ کی ابنِ عباس سے روایات قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔پھر آپ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا فیصلہ بھی سن لیں آپ الفوز الکبیر فصل اول میں شرح غریب قرآن کے عنوان کے تحت تحریہ فرماتے ہیں:۔بهترین شرح غریب آن است که اول از ترجمان القرآن عبد الله بن عباس از طریق ابن ابی طلحہ صحیح شده است و بخاری در صحیح خود غالباً برهمی طریق اعتماد کرده است ( الفوز الكبير من مطبع علمی دہلی) یعنی عزائب قرآن کی شروح میں سے بہترین شرح ، شارح قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس کی ہے جو ابن ابی طلحہ کے طریق روایت سے صحت کے ساتھ ہم کو پہنچی ہے اور غالباً امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں اس طریق پر اعتماد فرمایا ہے۔اور ہمارے نزدیک حضرت ابن عباس مفتر قرآن کی یہ روایت اس لیے بھی قابل قبول ہے کہ موافق قرآن و سنت و عقل و نقل ہے۔اس بحث سے یہ بات تو خوب گھل گئی ہے کہ آپ نے بہو بخاری سے ہماری پیش کردہ ابنِ عباس کی روایت کو رد کرنے کی کوشش کی تھی اس سے وہ روایت تو رد نہیں ہو سکی لیکن آپ کی یہ کوشش یقینا مردود ثابت ہو چکی ہے جو آپ نے اسے رو کرنے کے لیے کی۔مزید فائدہ اس بحث سے یہ پہنچا کہ آپ کی علمیت کا پول کھل گیا۔پس یا تو آپ کا عالم ہونے کا دعوئے