ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 31 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 31

۵ حضرت ابن عباس نے کے مسیح بخاری میں درج قول متوفِّيكَ مُميتك كو آپ نے وز منشور میں ان کی طرف منسوب ایک دوسرے قول سے کمزور کرنے کی بے سود کوشش کی ہے کیا یہ انصاف کا خون نہیں کہ آپ افتح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری کی ایک صحیح اور ثقہ روایت بود کهہ قرآن اور عقل جس کے مؤید ہیں) مردود قرار دے رہے ہیں اور در منشور کی ایک کمزور۔براسند روایت کو (جو خلاف عقل اور خلاف قرآن بھی ہے) اس لیے قبول کر لیں کہ وہ آپ کے غلط عقیدہ کی تائید کرتی ہے۔آپ نے مفتر قرآن حضرت ابن عباس کی بخاری میں درج انس تفسیر (جس سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے) کے ایک راوی علی بن ابی طلحہ پر بلا تحقیق مصنف کا الزام لگایا ہے اور یہ تحقیق نہیں کی کہ علمائے فن نے حضرت ابن عباس ایک پہنچنے والی جملہ اسناد میں سے صرف اسی سند کو ثقہ اور مضبوط قرار دیا ہے جس میں علی بن ابی طلحہ ہوں چنانچہ علامہ سیوطی اتقان میں لکھتے ہیں :۔وَقَدْ وَرَدَ عَنِ ابْنِ عِباسِ فِي التَّفْسِيرِ مَا لَا يُحْصى كَثْرَةِ وَ فِيهِ رِدَايَاتُ وَطُرُلٌ مُخْتَلِفَةٌ فَمِنْ جَيَّدِهَا طَرِيقُ عَلِي ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْهَا شِمي (الاتقان فی علوم القرآن للعلامه سیوطی جز ۲ - ۰ ۳۲ مطبوعہ مصرم یعنی حضرت ابن عباس سے منسوب تفسیر میں لاتعداد کثرت پائی جاتی ہے اور اس میں مختلف طرق اور روایات ہیں ان میں سب سے بہترین سندہ وہ ہے جو علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔امام احمد بن مقبل کو مصر میں ایک ایسے نسخے کی موجودگی کا علم ہو ابوعلی بن ابی سلمہ سے