ولکن شُبّھہ لھم — Page 25
۲۵ ہے تو اپنے لیے ایسی موت کیوں نہیں مانگتے تاکہ جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔آسمان سے کوئی آئے یا نہ آئے کم از کم پڑھ کر ہی دکھائے۔جناب مولوی صاحب ! کان کھول کر سینے ! موت سے مراد موت ہی ہوتی ہے موت سے ڈریں۔آپ نے یہ بے وزن بات بھی خوب کہی کہ بالفرض امام مالک وفات کے قائل سبھی ہیں تو حیات بعد الموت کے قائل ہیں۔یہ تو درست ہے کہ امام مالک ہی نہیں تمام مسلمان حیات بعد الموت کے قائل ہیں لیکن یہ ہر گز مراد نہیں کہ اسی دنیا میں مردوں کے جی اُٹھنے کے قائل ہوں۔حیات بعد الموت سے مراد حیات الآخرت ہے۔قرآن کریم نے تو ن لوگوں کی روحوں کا جومرنے کے بعد جسم سے جدا ہوگئیں واپس آنا قطعی طور پر محال قرار دیا ہے اور تقدیر الہی کے بھی خلاف قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا :- وَحَرُهُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَها أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانباء : ٩٦) ترجمہ:۔اور سہر ایک بہتی جسے ہم نے ہلاک کیا ہے اس کے لیے یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ اس کے بسنے والے کوٹ کر اس دُنیا میں نہیں آئیں گے۔آپ کو اس فتق صریح کا علم نہ ہو تو کوئی تعجب نہیں لیکن حضرت امام مالک پر یہ الزام لگانے کا آپ کو کیا حتی ہے کہ وہ بھی آپ ہی کی طرح بد عقیدہ تھے۔ہم آپ کو چیلنج کرتے ہیں کہ امام مالک کے کسی حوالہ سے ثابت کریں کہ آپ موت سے مراد مرنے کی بجائے آسمان پر جانا مراد لیا کرتے تھے۔پھر اس پر مستزاد یہ کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آپ نے حضرت امام مالک کا وفات مسیح کا عقیدہ اپنی کتاب مجمع بحار الانوار میں نقل کرنے والے امام شیخ محمد طاہر