ولکن شُبّھہ لھم — Page 3
اٹھتی ہی اس وقت ہے جب قرآن اور حدیث کی نصوص صریحہ قطعی فیصلہ میں حمد نہ ہوسکیں، پھر کیوں قرآن کو اولیت نہیں دیتے۔نیز کیا قرآن حکیم پری سب اُمت کا اجماع نہیں ہے۔لیکن ہم خوب سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کی مجبوری ہے۔کیونکہ قرآن میں حیات مسیح کی تائید میں ایک بھی آیت موجود نہیں جبکہ اس کے بر عکس ایسی متعدد آیات ہیں جن سے قطعی طور پر وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے متعدد فرمودات بھی ہماری راہنمائی کر رہے ہیں جن سے وفات میں قطعی طور پر مستنبط ہوتی ہے لیکن ایک بھی حدیث ایسی دیکھائی نہیں دیتی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ میں علیہ السلام قوت نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔جہاں تک آپ کے نام نہاد اجماع اُمت کا تعلق ہے اس کا یہ حال ہے کہ متعدد بزرگان سلف و علمائے امت وفات مسیح کے ہمیشہ قائل رہے اور قائل ہیں اور حضرت علی علیہ السّلام کے نزول کو استعارہ کا رنگ دیتے ہیں۔مگر ہمیں حیرت اور تعجب اس پر ہے کہ آپ نے اس عظیم الشان اجتماع سے کیوں آنکھیں بند کر لیں جو ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے معا بعد ہوا۔اسلام کے اس پہلے اجماع صحابہ کو حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں جگہ دی ہے۔اور تمین استاد کے ساتھ مختلف مقامات پر تکرار اس کا ذکر کیا ہے۔تفصیل اس عظیم الشان اجماع کی یہ ہے کہ وفات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت نہیں نہوئے۔اور آپ فرماتے تھے کہ خدا کی قسم مجھے اس بات پر دلی یقین تھا کہ حضور کی وفات نہیں ہوئی اور آپ ضرور ہمارے اندر دوبارہ تشریف لائیں گے۔اسی دوران حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کی زیارت کی آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور عرض کیا ! میرے ماں باپ آپ