ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 2 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 2

قرآن وحدیث سے اس کے خلاف استنباط فرماتے رہے لیکن اب تو زمانے کے رنگ ہی بدل چکے ہیں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس ناقابل فہم عقیدہ سے بیزار ہو چکی ہے لدھیانوی صاحب نے وفات مسیح کے قائل ، سائل کو سبو طفل تسلیاں دینے کی کوشش کی ہے اس کے نمبر دار تجزیہ سے صادق روشن ہو جائے گا کہ وہ اس عقیدہ میں کس قدر غلطی پر ہیں۔D لدھیانوی صاحب تمہید میں فرماتے ہیں :- " حضرت عیسی علیہ السّلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ اختلافی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دھلوی تک تمام اُمت کا اجتماعی اور متفق علیہ عقیدہ ہے" (رساله مذکوره صفحه ۳) حیرت ہے کہ لدھیانوی صاحب ایسے اصل الاصول مسئلہ کے لیے قرآن اور سنت اور حدیث رسول کو چھوڑ کر علماء کے نام نہاد اجماع کا رخ کر رہے ہیں۔جس سے اُن کے مؤقف کی کمزوری صاف عیاں ہے۔جناب والا ! ! اگر آپ کا موقعت ایسا ہی مضبوط ہے تو قرآن و حدیث سے بات شروع کی ہوتی۔آپ نے تو بگڑی ہوئی تاریک صدیوں میں غلط نہی سے رواج پانے والے ایک بج عقیدہ کو اجتماع کا نام دے دیا۔اس اجماع کا پول تو ہم کھولیں گے ہی اور روز روشن کی طرح ثابت کر دیں گے کہ آپ نے اس عقیدہ پر اجتماع کی تعلی کر کے کیسی ناحق جسارت کی ہے لیکن آپ اتنا تو فرمائے کہ کیا آپ قرآن کو علماء کے اجماع پر مقدم نہیں سمجھتے ؟ کیا عالم دین ہونے کا دعوئے رکھنے کے باوجود آپ کو اپنی بھی خبر نہیں کہ اجماع کی بحث تو