ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 4 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 4

پر قربان آپ زندہ ہونے کی حالت میں بھی پاک تھے اور آپ کو موت بھی اسی حال میں آئی۔اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا پھر آپ نے حضرت عمر کو مخاطب کر کے فرمایا اسے قسمیں کھانے والے مھر جا !! اور پھر آپ نے ایک زبر دست مدلل تقریر فرمائی جس پر تمام صحابہ جو کثیر تعداد میں موجود تھے آپ کی طرف متوجہ ہو گئے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا :- "اے لوگو ! تم میں سے جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ آپ وفات پاگئے ہیں اور جو شخص خدا کی عبادت کرتا تھا وہ یقین رکھے کہ ہمارا خدا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (سورة آل عمران : ۱۳۵) کہ محمد مصطفے اصل اللہ علیہ وسلم ایک رسول ہی تو ہیں اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔لہذا آپ کی وفات کوئی اچنبہ نہیں ہے۔اس پر لوگ بے اختیار ہو کر رونے لگے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جونہی حضرت ابو کرینہ نے یہ آیت پڑھی ہیں تو سخت دہشت زدہ اور حیران ہو کر رہ گیا۔میری ٹانگیں میرے وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر رہ گئیں۔اور میں زمین پر گر پڑا۔خدا کی قسم ! ایسے لگتا تھا کہ حضرت ابو بکر نہ کی اس آیت کی تلاوت سے قبل لوگوں کو اس کا علم ہی نہ تھا۔اور آپنے سے سُن کر لوگوں نے یہ آیت پڑھنا شروع کردی سنتی کہ مدینہ کے ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي صلى الله علیه وسلم وكتاب الجنائز باب الدخول على الميت وكتاب المناقب باب مناقب ابی میمیر)