حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 30

30 دوسرے کی بات کو سنتا ہے۔راتوں کو اور دنوں کو خوب سوچ کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انسان بہت ہی بے بنیاد شئے ہے اور اس کے وجود کی کوئی گل بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ایک آنکھ ہی پر نظر کرو کہ کس قدر باریک عضو ہے اگر ایک ذرا پھر آ لگے تو فوراً نابینا ہو جاوے۔پھر اگر یہ خدا کی نعمت نہیں ہے تو کیا ہے۔کیا کسی نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے ضرور بینا ہی رکھے گا۔اور اسی پر سب قومی کا قیاس کرو کہ اگر آج کسی میں فرق آجاوے تو انسان کی کیا پیش چل سکتی ہے۔غرض کہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔اور مومن کا گزارہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔جب تک اس کا دھیان ہر وقت اس کی طرف لگا نہ رہے۔اگر کوئی ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور ایک دینی نظر سے ان کو وقعت نہیں دیتا تو وہ اپنے دنیوی معاملات پر ہی نظر ڈال کر دیکھے کہ کیا خدا تعالیٰ کی تائید اور فضل کے سوا کوئی کام اس کا چل سکتا ہے؟ اور کوئی منفعت دنیا کی وہ حاصل کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔دین ہو یا دنیا ہر ایک امر میں اسے خدا تعالیٰ کی ذات کی بڑی ضرورت ہے اور ہر وقت اس کی طرف احتیاج لگی ہوئی ہے۔جو اس کا منکر ہے سخت غلطی پر ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پروانہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھویا نہ۔وہ فرماتا ہے: قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُ کم کہ اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔انسان جس قدر اپنے وجود کو مفید اور کارآمد ثابت کرے گا۔اسی قدرا سکے انعامات کو حاصل کرے گا۔دیکھو کوئی بیل کسی زمیندار کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہومگر جب وہ اس کے کسی کام بھی نہ آوے گا۔نہ گاڑی میں بجھتے گانہ زراعت کرے گا، نہ کنوئیں میں لگے گا تو آخر سوائے ذبح کے اور کسی کام نہ آوے گا۔ایک نہ ایک دن مالک اسے قصاب کے حوالہ کر دے گا۔ایسے ہی جو انسان خدا کی راہ میں مفید ثابت نہ ہوگا تو خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کا ہرگز ذمہ دار نہ ہو گا۔ایک پھل اور سایہ دار درخت کی طرح اپنے وجود کو بنانا چاہئے تا کہ مالک الفرقان: ۷۸