حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 29
29 زندہ رہوں گا۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہو جاوے کہ اب زندگی ختم ہے تو ابھی سب ارادے باطل ہو جاتے ہیں۔پس خُوب یا د رکھو کہ مومن کو دنیا کا بندہ نہ ہونا چاہئے۔ہمیشہ اس امر میں کوشاں رہنا چاہئے کہ کوئی بھلائی اس کے ہاتھ سے ہو جاوے۔خدا تعالیٰ بڑا رحیم کریم ہے۔اور اس کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ تم دیکھ پاؤ۔لیکن یہ خوب یا درکھو کہ جو اس سے عمداً دوری اختیار کرتا ہے اس پر اس کا قہر ضرور ہوتا ہے۔عادت اللہ اسی طرح سے چلی آتی ہے۔نوح کے زمانہ کو دیکھو اور لوط کے زمانہ کو دیکھو۔موسیٰ کے زمانہ کو دیکھو اور پھر آنحضرت لوہے کے زمانہ کو دیکھو کہ اس وقت جن لوگوں نے عمد أخدا تعالیٰ سے بعد اختیار کیا ان کا کیا حال ہوا۔ان لمبی آرزوؤں نے انسان کو ہلاک کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ب الهنكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِر۔کہ اے لوگو جو تم خدا تعالیٰ سے غافل ہو۔دنیا طلبی نے تم کو غافل کر دیا ہے۔یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو۔مگر غفلت سے باز نہیں آتے۔كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔مگر اس غلطی کا تم کو عنقریب علم ہو جائے گا۔ثُمَّ گلا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔پھر تم کو اطلاع دی جاتی ہے کہ عنقریب تم کو علم ہو جاوے گا کہ جن خواہشات کے پیچھے تم پڑے ہودہ ہرگز تمہارے کام نہ آویں گی۔اور حسرت کا موجب ہوں گی۔كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِينِ۔اگرتم کو یقینی علم حاصل ہو جاوے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاری زندگی جہنمی زندگی ہے۔اور جن خیالات میں تم رات دن لگے ہوئے ہو وہ بالکل ناکارہ ہیں۔میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح یہ باتیں لوگوں کے دلنشین ہو جاویں۔مگر آخر کار یہی کہنا پڑتا ہے کہ اپنے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔جب تک خدا تعالیٰ خود ایک واعظ دل میں نہ پیدا کرے تب تک فائدہ نہیں ہوتا۔جب انسان کی سعادت اور ہدایت کے دن آتے ہیں تو دل کے اندر ایک واعظ خود پیدا ہو جاتا ہے۔اور اس وقت اس کے دل کو ایسے کان مل جاتے ہیں کہ وہ اتاه التكاثر ۲-۶