حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 31

31 بھی خبر گیری کرتا رہے۔لیکن اگر اس درخت کی مانند ہو گا کہ جو نہ پھل لاتا ہے اور نہ پتے رکھتا ہے کہ لوگ سایہ میں آبیٹھیں تو سوائے اس کے کہ کاٹا جاوے اور آگ میں ڈالا جاوے اور کس کام آسکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون کے جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا۔اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں۔فلاں مکان بنالوں۔فلاں جائداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شئے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے۔اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے۔تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ مہلت اس لئے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے۔لیکن جو اس کے حکم سے خود ہی فائدہ نہ اُٹھا دے تو اُسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجا لاتا ہے۔مگر دل خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی۔اس لئے دل کا رجوع نام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔اب دیکھو کہ کہ ہزاروں مساجد ہیں۔مگر الله سوائے اس کے کہ ان میں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟ ایسے ہی آنحضرت ﷺ کے وقت یہودیوں کی حالت تھی کہ رسم اور عادت کے طور پر عبادت کرتے تھے اور دل کا حقیقی میلان جو کہ عبادت کی روح ہے ہرگز نہ تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت کی۔پس اس وقت بھی جو لوگ پاکیزگی قلب کی فکر نہیں کرتے تو اگر رسم و عادت کے طور پر وہ سینکڑوں ٹکریں الذاریات: ۵۷