حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 28
28 تقریر حضرت مسیح موعود عده الصلاة والسلام جو آپ نے ۳۰ دسمبر ۱۹۰۴ء کو بعد نماز جمعہ مسجد اقصیٰ میں فرمائی چونکہ خاکسار ایڈیٹر (البدر ) کچھ دیر سے پہنچا تھا اس لئے جس قدر ضبط ہو سکا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔سلسلہ تقریر سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انقطاع دنیا اور حصول قرب الی اللہ کے متعلق مضمون تھا اور وہ تقریر یہ ہے: انسان کو چاہئے کہ حسنات کا پلڑا بھاری رکھے۔مگر جہاں تک دیکھا جاتا ہے اس کی مصروفیت اس قدر دنیا میں ہے کہ یہ پلڑا بھاری ہوتا نظر نہیں آتا۔رات دن اسی فکر میں ہے کہ وہ کام دنیا کا ہو جاوے۔فلانی زمین مل جاوے، فلاں مکان بن جاوے۔حالانکہ اسے چاہئے کہ افکار میں بھی دین کا پلڑا دنیا کے پلڑے سے بھاری رکھے۔اگر کوئی شخص رات دن نماز روزہ میں مصروف ہے تو یہ بھی اس کے کام ہرگز نہیں آ سکتا۔جب تک کہ خدا کو اس نے مقدم نہیں رکھا ہوا۔ہر بات اور فعل میں اللہ تعالیٰ کو نصب العین بنانا چاہئے ورنہ خدا کی قبولیت کے لائق ہر گز نہ ٹھہرے گا۔دنیا کا ایک بُت ہوتا ہے جو کہ ہر وقت انسان کی بغل میں ہوتا ہے۔اگر وہ مقابلہ اور موازنہ کر کے دیکھے گا تو اسے معلوم ہوگا کہ طرح طرح کی نمائش اس نے دنیا کے لئے بنا رکھی ہے اور دین کا پہلو بہت کمزور ہے۔حالانکہ عمر کا اعتبار نہیں اور نہ علم ہے کہ اس نے ایک پل کے بعد زندہ بھی رہنا ہے کہ نہیں۔شیخ سعدی نے کیا عمدہ فرمایا ہے۔مکن تکیه بر عُمر ناپائدار اس وقت جس قدر لوگ کھڑے ہیں، کون کہہ سکتا ہے کہ ایک سال تک میں ضرور