حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 27

27 ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے کوئی دُکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے انہوں نے پہنچایا ہے لیکن پھر بھی ان کی ہزاروں خطائیں بخشتے کو اب بھی تیار ہیں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔یادرکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو۔اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو۔کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيْناً وَ يَتِيماً وَّ أَسِيراً۔وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے۔اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی۔مجھے صحت ہو جاوے تو میں اخلاقی تعلیم پر ایک مستقل رسالہ لکھوں گا۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میر امنشا ہے وہ ظاہر ہو جاوے۔اور وہ میری جماعت کے لئے ایک کامل تعلیم ہو۔اور ابتغاء مرضات اللہ کی را ہیں اس میں دکھائی جائیں۔مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتا ہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ۔میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی۔میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اٹھاتا ہے تو چار قدم گرتا ہے۔لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کر دے گا۔اس لئے تم بھی کوشش، تدبیر مجاہدہ اور دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے۔کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتاہی نہیں۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے۔ل الدھر: 9 - الحکم جلد ۹ نمبر ۳ صفحه ۲ تا ۴ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء