دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 49 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 49

۴۹ جب پتہ نہ لگا تو پھر اعلان کر دیا کہ جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو زند ہ یامز دہ لے آئے گا۔اُس کو سو اونٹ بطور انعام دئے جائیں گے۔اس لالچ میں مکہ کے کئی آدمی ادھر اُدھر آپ کی تلاش میں دوڑ پڑے۔غار ثور پر رؤساء قریش کا پہنچنا اور پھر نا کام واپس آنا خود رؤساء قریش بھی چند سُراغ رسانوں کو لے کر آپ کی تلاش میں نکلے۔سُراغ نکالنے والے انہیں غار ثور کے منہ تک لے آئے۔اور انہیں کہا کہ تمہارے مجرم اس غار تک پہنچے ہیں۔یا تو اس غار میں ہیں۔یا پھر آسمان پر اڑ گئے ہیں۔لکھا ہے کہ قریش اس قدر آپ کے قریب کھڑے تھے کہ آپ اُن کی باتیں سُن رہے تھے۔اور اگر وہ ذرا نیچے جھانکتے تو دیکھ سکتے تھے۔غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تنا ہوا تھا اور کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے۔ان اشیاء کو دیکھ کر وہ سردار اپنے سُراغ رسانوں کو بے وقوف بتاتے ہوئے واپس چلے گئے۔اس موقعہ پر حضرت ابو بکڑ نے گھبراہٹ کا اظہار کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر لفار ذرا جھانک لیں تو پھر ہمیں دیکھ لیں گے۔آپ نے فرمایا۔لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا غم مت کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔سبحان اللہ ! ہمارے آقا کا اپنے اللہ پر کتنا بڑا انیمان اور بھروسہ تھا۔یہی وہ یقین ہے جوانسان کو ہرمیدان میں کامیاب کرتا ہے۔آپ تین دن اس غار میں ٹھیرے۔حضرت ابو بکڑ کے خادم عامر بن فہیر ہو ادھر ادھر