دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 50 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 50

یر ۵۰ کی بکریاں چراتے رہتے اور رات کو اُن کا دُودھ دے جاتے۔اور آپ کے فرزند عبد اللہ ، کفار کی خبریں پہنچاتے رہتے۔ربیع الاول ۱۴ نبوی ، ۲۰ جون ۶۲۲ ء کو عبد الله بن اریقط کے ہمراہ جو بطور راہ نما اُجرت پر لیا گیا تھا۔اور اپنے خادم عامر بن فہیرہ کو ساتھ لے کر حضرت ابو بکر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف کوچ کیا۔سُراقہ بن مالک کا تعاقب سراقہ بن مالک ملکہ کا ایک شاہسوار انعام کے لالچ میں آپ کے تعاقب میں نکلا۔جب وہ اس چھوٹے سے قافلے کے نزدیک پہنچا تو اُس کا گھوڑا گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔اس نے فورا اپنا تیر نکال کر فال لی کہ مجھے آگے بڑھنا چاہیے یا نہیں۔فال نکلی کہ نہیں۔لیکن انعام کے لالچ نے پھر تعاقب پر آمادہ کیا۔گھوڑے کو ایڑ لگا کر قریب پہنچا تو پھر گھوڑے نے ایسی ٹھو کر کھائی کہ پیٹ تک ریت میں دھنس گیا۔وہ سمجھ گیا کہ اب ایسی کوشش کرنا اپنی ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔آخر عاجزی سے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے امن کی تحریر دی جائے۔جو آدمی آپ کے تعاقب میں آتا ہوا مجھے ملے گا اُسے واپس کر دوں گا۔چنانچہ آپ کے حکم سے عامر بن فہیر ہ نے اسے امن کی تحریر لکھ دی۔جب وہ واپس لوٹنے لگا تو آپ نے فرمایا۔”اے سراقہ ! تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری (شاہِ ایران ) سے کنگن ہوں گے۔" حیرت سے سراقہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔مگر آخر وہی ہوا جو حضور نے فرمایا تھا۔