دینیات کی پہلی کتاب — Page 51
۵۱ اور وہ اس طرح کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ایران فتح ہوا تو شاہ کنسرٹی کے کنگن بھی مال غنیمت میں آئے۔تب حضرت عمر نے اس پیشگوئی کو ظاہری رنگ میں پورا کرنے کے لئے وہ کنگن سُراقہ بن مالک کو پہنا دیئے۔اختتام سفر آخر یہ مقدس قافلہ منزل پر منزل مارتا ہوا آٹھ روز کا تیز سفر کر کے ۱۲؍ ربیع الاول، ا نبوی کو پیر کے روز مدینہ کے قریب پہنچ گیا۔آپ کے استقبال کے لئے اہلِ مدینہ دوڑے ہوئے آئے۔اور اُن کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ نعرہ تکبیر سے سارا مدینہ گونج رہا تھا۔چھوٹی چھوٹی انصاری لڑکیاں چھتوں پر چڑھ کر گیت گا رہی تھیں۔چھوٹے چھوٹے بچے مدینہ کی گلیوں میں جلوس نکالے ہوئے کہتے پھرتے تھے کہ ہمارے پیغمبر آرہے ہیں۔اور نوجوان ہتھیار سجائے اپنے آقا کی پیشوائی کی خوشی میں پھولے نہ سماتے تھے۔مسجد قبا کی بنیاد مدینہ سے ۳ میل کے فاصلہ پر ٹیلہ پر ایک چھوٹی سی آبادی تھی جن میں زیادہ تر مسلمان آباد تھے۔وہاں آپ ۱۴ دن ٹھہرے اور ایک چھوٹی سی مسجد کی بنیا دڈالی جو مسجد قبا کے نام سے مشہور ہوئی۔اور جس کا ذکر قر آن مجید کے دسویں پارہ میں اس طرح پر ہے۔لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى (وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے )۔