دینیات کی پہلی کتاب — Page 125
و ۱۲۵ والا ہے ) البتہ یہ بات ضرور شرم کا موجب ہے کہ کسی چیز کا علم تم کو حاصل ہوسکتا ہے لیکن تمہاری غفلت اُس سے تم کومحروم کر دے۔(۳) طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے دل میں مال و جاہ کی محبت کو جگہ نہ دے۔کوئی حقیقی صاحب علم زر پرست اور نمود پسند نہیں ہوسکتا۔نخوت اور تکبر علم کے شایان شان نہیں۔برخلاف اس کے علم انسان کو تو اضع اور خوش اخلاقی سکھاتا ہے۔(۴) علوم وفنون کے حاصل کرنے میں تدریج کا اصول مد نظر رکھنا چاہئے۔ترتیب علوم کوملحوظ رکھیں اور اہم کو غیر اہم پر تقدیم دیں۔اس بات کو بخوبی ذہن نشین کرلیں ر تحصیل علم کا اصلی مقصد یہ ہر گز نہیں کہ انسان وکیل یا ڈاکٹر یا انجینئر یا حج یا مجسٹریٹ بن جائے اور بس۔بلکہ تحصیل علم کامۂ عالیہ ہے کہ وہ انسانی فرائض کا شناسا ہو اور ہر ایک چیز کی حقیقت کو پہچان لے۔(جس سے نیکی بدی اور حق اور باطل میں تمیز کر سکے ) حصول علم کو فخر اور مباہات کا ذریعہ نہ بنائے۔کسی کے ساتھ حسد نہ کرے۔اور نہ ہی دُوسروں کو بہ مر استحقار دیکھے۔اس کی بجائے تواضع کو اپنا شیوہ اور شفقت و ہمدردی کو اپنا شعار بنائے اور خلق اللہ کی خدمت اور ان کو فائدہ پہنچانا اپنی زندگی کا مقصد ٹھہرائے۔(۵) بعض لوگ کمال علمی سے خالی ہونے کے باوجود فضیلت اور تفوق کی ڈینگیں مارتے پھرتے ہیں۔تم کو ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہئیے۔بچے اہل علم کی مثال پُر از میوہ خوشہ کی ہے۔جو ہمیشہ اپنا سرزمین کی طرف جھکائے رکھتا ہے۔اور اپنے میوہ سے اِنسان کے لئے لطف اور لذت کا باعث ہوتا ہے۔برخلاف اس کے جاہل مغرور کی مثال خالی از میوہ خوشہ ہے۔جس کا سر آسمان کی طرف اُونچا رہتا ہے۔لیکن سوائے اس کے کہ دیکھنے والوں کو دھوکے میں ڈالے اُس سے کسی کو فائدہ حاصل ہونے کی امید نہیں۔اگر وہ کسی مصرف کا