دینیات کی پہلی کتاب — Page 124
۰۱۲۴ علم اور تعلیم کے آداب طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَّ مُسْلِمَةٍ۔ہر ایک مسلمان مرد اور عورت پر علم کا طلب کرنا فرض ہے۔(۱) علم سے بصیرت کی آنکھیں روشن ہوتی ہیں۔جن سے انسان۔۔۔۔۔۔۔نیکی اور بدی حق اور باطل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھ سکتا ہے۔علم ایک ٹور ہے۔جس سے جہل کی تاریکیاں دُور ہو کر انسان کو حقیقی فضیلت حاصل ہوتی ہے۔وہ انسان کے لئے زینت ہے اور ایک ایسا سرمایہ ہے جس میں کبھی نقصان واقع ہونے کا احتمال تک نہیں۔وہ ایک ایسا خزانہ ہے جس کو چور نہیں لے جا سکتے۔اور جہاں تم جاؤ تمہارے ساتھ رہے گا۔اس سے انسان کو اپنی زندگی کا اصلی لطف حاصل ہوتا ہے۔اور تہذیب و تمدن کی تمام تر خوبیاں اسی علم کے آثار اور نتائج ہیں۔وہ ایک ایسا جو ہر بے بہا اور قابل قدر کمال ہے جس پر آدمی بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔وہ عقل کے لئے منتقل ہے۔اور ہر ایک بُنر اسی کی بدولت درجہ کمال تک پہنچتا ہے۔اہلِ علم اپنے زمانے میں چراغ ہدایت ہوتے ہیں۔اور یہی لوگ ہیں جو اشیاء کی حقائق نفس الامریہ کا صحیح ادراک کر سکتے ہیں۔انہی کی برکت سے خیر وشر اور نفع و ضرر کی تمیز دنیا میں قائم ہے۔جاہل آدمی اگر چہ بظاہر زندہ ہے لیکن حقیقت میں مُردہ بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔(۲) اگر تم دیکھو کہ کوئی دوسرا شخص تم سے علم میں فوقیت رکھتا ہے تو یہ کوئی شرمندہ ہونے کی بات نہیں ہے۔وَفَوْقَ كُلَّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ۔( اور ہر علم والے سے بڑھ کر عالم